رسائی کے لنکس

برما کے صدر تھین سین نے ، جن کی حکومت گذشتہ تقربیاً ایک سال کے دوران متعدد جمہوری اصلاحات نافذ کرچکی ہے، صبر و تحمل سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

جمعرات کو پارلیمنٹ کے سامنے ایک تقریر میں مسٹر تھین سین نے کہا کہ کئی عشروں کے فوجی اقتدار کے بعد ملک کے نظام کو کلی طورپر تبدیل کرنے کے لیے ایک لمبا راستہ طے کرنا ہوگا۔

صدر نے کہا کہ برما کے تمام باشندوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوریت کی سمت پیش رفت میں اپنا کردار ادا کریں۔

ملک میں جمہوریت لانے کے لیے اب تک کی جانے والی اصلاحات میں میڈیا پر عائد پابندیاں نرم کرنا، سینکڑوں سیاسی قیدیوں کی رہائی اور جمہوریت پسند راہنما آنگ ساں سوچی کے ساتھ گفت وشنید کا عمل جاری رکھناہے۔

نوبیل انعام یافتہ راہنما سوچی یکم اپریل کو ہونے والے پارلیمنٹ کے ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG