رسائی کے لنکس

بدھ کو حلف برداری کے بعد سوچی نے واضح کیا کہ انہیں پارلیمان کے فوجی اراکین کے ساتھ بیٹھنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن وہ ملک کے قانون ساز اداروں میں مزید جمہوریت دیکھنا چاہتی ہیں

برما کی عالمی شہرتِ یافتہ جمہوری پسند رہنما آنگ سان سوچی اور ان کے 42 ساتھیوں نے پارلیمان کی رکنیت کا حلف اٹھالیا ہے جس کے بعد ملک میں سیاسی بحران کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

امن کی نوبیل انعام یافتہ خاتون رہنما اور ان کے ساتھی نومنتخب اراکینِ پارلیمان نے بدھ کو ایوانِ زیریں کی رکنیت کا حلف اٹھایا۔ یاد رہے کہ سوچی اور ان کی جماعت 'نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی'نے گزشتہ ہفتے حلف کے متن پر موجود اختلافات کے باعث ایوان کا حصہ بننے سے انکار کردیا تھا۔

'این ایل ڈی' کے نومنتخب اراکین نے حلف میں موجود "آئین کے تحفظ" کے وعدے پر اعتراض کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ فوجی حکمرانوں کے تیار کردہ آئین کی حفاظت کا حلف نہیں اٹھائیں گے۔

لیکن حکومت سے مذاکرات کے بعد رواں ہفتے 'این ایل ڈی' کے اراکین نے حلف اٹھانے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ قانونی راستے کے ذریعے آئین کو تبدیل کرنے کی جدوجہد کریں گے۔

بدھ کو حلف برداری کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سوچی نے واضح کیا کہ انہیں پارلیمان کے فوجی اراکین کے ساتھ بیٹھنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کے قانون ساز اداروں میں مزید جمہوریت دیکھنا چاہتی ہیں۔

واضح رہے کہ یکم اپریل کو پارلیمان کی 45 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں سوچی کی جماعت بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی تھی اور اس نے 43 نشستیں جیت لی تھیں۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران میں سوچی نے بارہا اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ پارلیمان میں پہنچنے کے بعد ان کی اولین ترجیح 2008ء کے اس آئین میں ترمیم ہوگی جس کے تحت پارلیمان کی ایک چوتھائی نشستیں فوج کے نامزد افسروں کے لیے مخصوص ہیں۔

حزبِ مخالف کی سب سے بڑی جماعت کے اراکینِ پارلیمان کے حلف اٹھانے کے بعد ملک میں اس سیاسی محاذ آرائی کا خطرہ ٹل گیا ہے جس نے ملک میں جاری جمہوری اصلاحات کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا تھا۔

XS
SM
MD
LG