رسائی کے لنکس

برما کی جمہوریت نواز راہنما آنگ ساں سوچی نے منگل کے روز ملک کی طاقتور فوج کو یقین دلایا ہے کہ ان کی حزب اختلاف کی جماعت فوج کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کرنا نہیں چاہتی۔

انہوں نےیہ بیان اپریل میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے سلسلے میں دارالحکومت میں اپنی انتخابی مہم کے دوران دیا۔

نوبیل انعام یافتہ راہنما نےفوج کے مضبوط گڑھ نیپائیتو میں اپنے ہزاروں پرجوش حامیوں سے دو بار خطاب کیا۔

فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک پیغام طورپر انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نیشل لیگ فار ڈیموکریسی، جو طویل عرصے تک فوجی حکمرانوں کے زیر عتاب رہی ہے، جمہوریت کے لیے فوج کی حمایت کا خیرمقدم کرتی ہے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اس انتخابی حلقے میں بہت سے فوجی رہتے ہیں۔ میں انہیں اپنی پارٹی میں خوش آمدید کہتی ہوں۔ نیشل لیگ فار ڈیموکریسی کا فوج سے کوئی تصادم نہیں ہے۔ ہم اپنی فوج پر فخر کرتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری فوج کو دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ ہم اپنی فوج کو جدید ترین فوج بنانا چاہتے ہیں۔

نیشل لیگ فارڈیموکریسی یکم اپریل کو تمام 48 نشستوں پر ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ یہ نشسیں قانون سازوں کی جانب سے سرکاری عہدے قبول کرنے کے بعد خالی ہوئی ہیں۔ ان میں 4 نشستیں دارالحکومت کے حلقوں کی ہیں۔

آنگ ساں سوچی رنگوں کے جنوبی ضلع کی ایک نشست پر الیکشن میں حصہ لینا چاہتی ہیں۔

مغربی نامہ نگاروں کا کہناہے کہ منگل کو آنگ ساں سوچی کے جلسے میں حالیہ دنوں کے مقابلے میں کم مجمع تھا۔ پچھلے دنوں وہ بالائی برما کے نسلی اقلتی علاقوں میں اپنی مہم چلاتی رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG