رسائی کے لنکس

برما: اہم ترین حزب مخالف کے کچھ لیڈرنئی سیاسی پارٹی بنانے میں مصروف


برما: اہم ترین حزب مخالف کے کچھ لیڈرنئی سیاسی پارٹی بنانے میں مصروف

برما: اہم ترین حزب مخالف کے کچھ لیڈرنئی سیاسی پارٹی بنانے میں مصروف

حزب مخالف کے لیڈر، جن کا آئندہ الیکش سے بائیکاٹ کے بارے میں اختلاف رائے ہے، کہتے ہیں کہ وہ ایک الگ جماعت بنا رہے ہیں جو کہ فوج کی سرکردگی میں ہونے والے انتخابات میں شریک ہوگی۔

نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے رکن تھان نئین نے وائس آف امریکہ کو جمعرات کے روز بتایا انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر الگ پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا نام ہوگا: نیشنل ڈیموکریٹک فورس اور یہ جماعت اس سال منعقد ہونے والے الیکشن میں حصہ لے گی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے اغراض و مقاصد این ڈی ایل سے مختلف نہیں ہیں۔ لیکن این ڈی ایل الیکشن کا بائیکاٹ کر رہی ہے کیونکہ اسے بدستو سیاسی جماعت بنے رہنے کے لئے فوج کی شرائط منظور نہیں ہیں۔

برما کی فوجی حکومت کی جانب سے منظور کردہ نئے انتخابی قوانین کے تحت ، نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کو اپنے عہدے داروں میں سے سیاسی قیدیوں کو نکالنا ہوگا اور جمعرات تک خود کو 2010 ء کے انتخابات کے لیے رجسٹر کرانا ہوگا یا پھر تحلیل ہونے کا سامنا کرنا ہوگا۔

این ایل ڈی نے انتخابات کے لیے اپنی رجسٹریشن نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ایسا کرنے کے لیے اپنی اسیر راہنما آنگ ساں سوچی کو پارٹی سے نکالنا نئے انتخابی قانون کا ایک تقاضا ہے۔ این ایل ڈی کے ارکان کا کہنا ہے کہ رنگون میں قائم ان کا مرکزی دفتر بدستور انسانی ہمدردی کے لیے کام کرتا رہے گا لیکن اب وہ سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔

این ایل ڈی کے کچھ ارکان نے جمعرات کے روز دفتر بندکرنے سے قبل آنگ ساں سوچی کی تصاویر وہاں سے ہٹا دیں۔

اس سےقبل، این ایل ڈی کے ترجمان نیان وین نے رنگون میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ برما کی سپریم کورٹ نے فوجی حکومت کے نئے انتخابی قوانین کو پلٹنے کے لیے ان کی درخوست سننے سے انکار کردیا ہے۔

XS
SM
MD
LG