رسائی کے لنکس

برما: سابق صدر ایک بار پھر میڈیا کی نظر میں


جنرل تھان شوئی (فائل فوٹو)

جنرل تھان شوئی (فائل فوٹو)

برما پر فوج کے طویل ظالمانہ دورِ حکومت کی جو چھاپ لگی ہوئی ہے، اسے مٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس فوجی حکومت کے سربراہ سابق فوجی جنرل تھان شوئی تھے ۔ مارچ میں نئی حکومت کے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد سے، وہ رو پوش سے ہو گئے تھے ۔ لیکن گذشتہ جمعرات کو پہلی بار برما کے سرکاری میڈیا میں ان کا نام لیا گیا۔

برما کے نئے لیڈروں کے بر سرِ اقتدار آنے سے پہلے، سرکاری میڈیا کی مطبوعات میں تھان شوئی کا نام شہ سرخیوں میں نظر آیا کرتا تھا۔ اور سیاسی نظام میں ان کی اہمیت نمایاں کی جاتی تھی ۔ اس ہفتے کے شروع تک، ان کا نام اخباروں سے غائب تھا لیکن اب دو اخباروں میانمار الن اور دی مرر نے ان کے بارے میں خبریں شائع کی ہیں۔ صفحۂ اول سے دور چھپنے والی ان خبروں میں انہیں ریٹائرڈ کہا گیا ہے ۔

سابق ملٹری انٹیلی جنس افسر آنگ لِن ہٹٹ جو برما کے موجودہ صدر تھیئن سیئن کے بہت قریب رہ چکے ہیں، کہتے ہیں کہ اس تبدیلی کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ کو اشارہ دیا جائے ۔
وہ کہتے ہیں کہ بدھ کے روز امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کا برما کا دورہ شروع ہونے سے پہلے تھان شوئی کو ریٹائرڈ کہنے کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ کو یقین دلایا جائے کہ طویل عرصے سے برما پر حکومت کرنے والی شخصیت اب بر سرِ اقتدار نہیں ہے ۔ لیکن اس شخص کے لیے جو تقریباً دو عشروں تک بلا شرکتِ غیرے برما پر حکومت کر تا رہا، ریٹائرمنٹ کا کیا مطلب ہے ۔

"Than Shwe - Unmasking a Tyrant” کے مصنف بینیڈکٹ راجرز کہتے ہیں کہ شاید وہ اپنا سارا وقت گولف کھیلنے میں صرف نہیں کر رہے ہیں ۔’’حکومت کے ایک ترجمان نے حال ہی میں کہا کہ وہ اپنا بہت سا وقت کتابیں پڑھنے میں صرف کر رہے ہیں۔ گالف سے ان کی دلچسپی کے بارے میں بھی سب کو علم ہے ۔ کیا وہ واقعی یہی سب کچھ کر رہے ہیں، یا انھوں نے کسی نہ کسی طرح امورِ حکومت سے اپنا تعلق برقرار رکھا ہوا ہے ۔ شاید یہ بات صحیح ہے کہ وہ روز مرہ کے فیصلوں میں دخل نہیں دیتے ، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان کا کچھ اثر و رسوخ اب بھی برقرار ہے، خاص طور سے ملٹری میں۔‘‘

سابق سیاسی قیدی آنگ ڈن جو اب یو ایس کیمپین فار برما کے سربراہ ہیں،کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ تھان شوئی کا اثر و رسوخ اب بھی قائم ہو، لیکن اصل اہمیت اس بات کی نہیں ہے۔

’’ہو سکتا ہے کہ وہ پس پردہ ڈوریاں ہلا رہے ہوں، لیکن ہمیں موجودہ لوگوں پر نظر رکھنی چاہیئے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ کیا وہ حالات بہتر کر رہے ہیں یا اپنے ماضی کی طرف واپس جا رہےہیں۔‘‘

مارچ میں، 20 برسوں میں پہلی بار برما میں قومی انتخابات کے بعد، ایک سابق جنرل اور وزیرِ اعظم تھیئن شیئن ملک کے صدر بن گئے ۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ان کے صدر بننے سے پہلے، تمام انتظامی فیصلے، کسی صلاح و مشورے کے بغیر تھان شوئی کی ذاتی پسند یا نا پسند کی بنیا د پر کیے جاتے تھے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں برما کے تجزیہ کار ڈیوڈ اسٹیئن برگ کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ اب حالات بدل گئے ہیں۔’’لوگوں نے مجھے بتایا ہے کہ کسی کی مجال نہیں تھی کہ کوئی چیز تھان شوئی کے علم میں لائے، جب تک کہ وہ خود ایسا نہ کریں۔ اب صورتِ حال بدل گئی ہے ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ شخصیتیں تبدیل ہو گئی ہیں ۔ شاید یہ بات بھی ہے کہ ہمیں یقین نہیں کہ اقتدار کس کے پاس ہے ۔ اب اقتدار میں کئی لوگ حصے دار ہیں۔‘‘

حالات کی تبدیلی کے ساتھ، برما میں بہت سی اصلاحات ہوئی ہیں۔ گذشتہ ہفتے، پارلیمینٹ نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت ، بعض شرائط کے ساتھ، شہریوں کو پُر امن احتجاج کرنے کی اجازت مل گئی ہے ۔ حکام نے کئی سو سیاسی قیدیوں کو بھی رہا کر دیا ہے، مزدور یونینوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے قانون منظور کیا ہے، اور ایک غیر مقبول چینی ڈیم کی تعمیر منسوخ کر دی ہے ۔

آنگ ڈن کہتے ہیں کہ یہ سارے کام بہت اچھے ہوئے ہیں، لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔’’اگرچہ اب قانون موجود ہے جس کے تحت لوگوں کو احتجاج کرنے کی اجازت مل گئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی لوگوں کی نظریں سیاسی قیدیوں پر ہیں جنہیں پُر امن احتجاج کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے اور جو اب بھی جیل میں ہیں۔یہ ستم ظریفی نہیں تو کیا ہے۔‘‘

انسانی حقوق کے گروپوں نے اندازہ لگا یا ہے کہ 1000 سے زیادہ سیاسی قیدی اب بھی جیلوں میں بند ہیں۔

XS
SM
MD
LG