رسائی کے لنکس

بجلی کے طویل تعطل سے پریشان برما کے شہر منڈلی کے سینکڑوں افراد جنہیں دن بھر میں صرف چند گھنٹوں کے لیے بجلی ملتی ہے، اتوار کو دیر گئے احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

اس پرامن احتجاج میں شامل مظاہرین نے روشن موم بتیاں اٹھا رکھی تھیں اور انہوں نے محکہ بجلی کے مقامی دفتر کے باہر سڑکوں پر گشت کرتے ہوئے بجلی کی بلاروک ٹوک فراہمی کا مطالبہ کیا۔

کئی خبروں میں مظاہرین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ لوگ حکومت کی جانب سے توانائی کا شعبہ چین کے ہاتھ فروخت کرنے کے عمل سے پریشان ہیں۔

برما کےہر چار میں سے تین باشندوں کو اس کے باوجود بجلی میسر نہیں ہے کہ ملک میں تیل ، گیس اور پن بجلی کے بڑے پیمانے پر وسائل دستیاب ہیں۔ توانائی کے زیادہ تر وسائل پڑوسی ممالک تھائی لینڈ اور چین کو فروخت کردیے جاتے ہیں۔

مظاہرین کا کہناتھا کہ وہ اس لیے سڑکوں پر نکلے ہیں کیونکہ حکام نے کہاہے کہ روزانہ صرف چھ گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی۔ اس سے پہلے چھ گھنٹے کی حد مقرر نہیں تھی بلکہ بجلی متبادل ایام میں پورے دن یا رات بھر فراہم کی جاتی تھی۔

سابق دارالحکومت رنگون میں بھی روانہ کئی گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی بند رہتی ہے۔ برما کے سرکاری میڈیا ملک میں بجلی کے تعطل کا الزام باغی قبیلے کرچن کے عسکریت پسندوں پر لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ مشرقی ریاست شان میں بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچ رہے ہیں۔

اخبار نیولائٹ آف میانمر نے کہا ہے کے آئی اے کے بم دھماکوں سے اختتام ہفتہ بجلی کے چار بڑے کھمبے گر گئے تھے جس سے 200 میگا واٹ بجلی کی کمی ہوگئی ہے۔

XS
SM
MD
LG