رسائی کے لنکس

برما: حکومت اور کاچن باغیوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز


کاچن باغی

کاچن باغی

بات چیت کی کامیابی کی صورت میں، ایک یا دو ماہ کے اندر اندر تمام نسلوں سےتعلق رکھنے والے باغی گروہوں کے ساتھ جنگ بندی کا ایک جامع سمجھوتا طے پا سکتا ہے: سرکاری ذرائع

برما کی حکومت نے کاچن نسل سے تعلق رکھنے والے باغیوں سے بات چیت کے ایک نئے دور کا آغاز کردیا ہے، جو چین کی سرحد کے ساتھ ملک کے قدرتی وسائل سے مالا مال شمالی علاقے کی وسیع تر خودمختاری اور سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کرتا رہا ہے۔

حکومت کے ایک اعلیٰ مذاکرات کار نے منگل کے روز بتایا کہ بات چیت کی کامیابی کی صورت میں، ایک یا دو ماہ کے اندر اندر تمام نسلوں سےتعلق رکھنے والے باغی گروہوں کے ساتھ جنگ بندی کا ایک جامع سمجھوتا طے پا سکتا ہے۔

متوقع طور پر’تنظیم برائے آزادی کاچن‘ کے ساتھ ہونے والی یہ گفتگو تین روز تک جاری رہے گی۔

پہلی مرتبہ، بات چیت ریاست کاچن کے دارالحکومت’ متکینا‘ میں ہورہی ہے۔اِس سے قبل ہونے والے مذاکرات سرحد کے اُس پار، چین میں ہوتے رہے ہیں۔

کاچن کےعلاقے میں لڑائی جون 2011ء میں بھڑک اٹھی تھی، جِس کےباعث جنگ بندی کا خاتمہ ہوا، جو 1994ء سے جاری تھی اور جِس کے نتیجے میں دس لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

برما نے1948ء میں آزادی حاصل کی، جسے میانمار کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اُسے کئی ایک اقلیتی گروہوں کی بغاوت کا سامنا رہا ہے، جو خودمختاری حاصل کرنے کےخواہاں رہے ہیں۔

کبھی کبھار لڑائی بھڑک اٹھتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کاچن کے کلیدی گروہ کے ساتھ اب تک صدر تھیان سین کی منتخب حکومت کی جنگ بندی طے نہیں ہوئی۔ فوج نے تقریباً پانچ عشرے حکمرانی کی، جس کے بعد منتخب حکومت نے 2011ء میں اقتدار سنبھالا۔
XS
SM
MD
LG