رسائی کے لنکس

جنوبی کوریا کے عہدے داروں نے کہاہے کہ برما اقوام متحدہ کی ان قراردادوں پر مکمل طورپر عمل کرنے پر متفق ہوگیا ہے جن کا مقصد شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام کا خاتمہ ہے۔

یہ اعلان منگل کے روز جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ باک کے ایک ترجمان نے کیا ۔ صدر لی نے منگل کو برما کا دو روزہ تاریخی دورہ مکمل کیا ہے۔

برما کے صدر تھین سین نے صدر لی کے ساتھ ملاقات میں یہ تسلیم کیا کہ برما نے ماضی روایتی ہتھیاروں کے سلسلے میں شمالی کوریا سے معاہدے کیے تھے۔ لیکن انہوں نے پیانگ یانگ کے ساتھ کسی جوہری تعلق سے انکار کیا، جو ایک طویل عرصے سے سیول کے لیے ایک مسئلہ رہاہے۔

مسٹر لی نے منگل کے روز برما کی حزب اختلاف کی راہنما آنگ ساں سوچی سے بھی ملاقات کی جن کا کہناہے کہ جمہوریت کی جانب سفر میں جنوبی کوریا اور برما میں بہت سی قدریں مشترک ہیں۔

مسٹر لی 1983ء کے بعد سے برما کا دورہ کرنے والے جنوبی کوریا کے پہلے صدر ہیں۔ اس وقت شمالی کوریا کے کمانڈوز نے رنگون میں جنوبی کوریا کے ایک اعلی عہدے دار کو ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔

مسٹر لی نے بھاری سیکیورٹی میں اس مقام کا بھی دورہ کیا جہاں جنوبی کوریا کے سابق صدر چن دو ہوان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا ، جس میں وہ تو بچ نکلے تھے لیکن 21 دوسرے افراد مارے گئے تھے۔

جنوبی کوریا کے عہدے داروں نے منگل کے روز یہ بھی کہا کہ برما شمالی کوریا سے منحرف ہوکر غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے اس شخص کو بھی رہاکرنے پر راضی ہوگیا ہے، جو پانچ سال قید کی سزا کاٹ رہاہے۔

XS
SM
MD
LG