رسائی کے لنکس

برما کی جلاوطن حکومت کے ترجمان زین لین کہتے ہیں کہ انہیں جمعرات کے فیصلے پر کوئی حیرت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں برما میں ، ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں سینیئر جنرل تھان شو کے ماتحت ہیں۔ تھان شو تمام عدالتوں سے بالا ہیں۔ وہ قانون سے بھی بالا ہیں۔

برما کی سپریم کورٹ نے جمہوریت نوار راہنما آنگ ساں سوچی کی پچھلے سال کی اپنی سزا کے خلاف دائر کی جانے والی اپیل مسترد کردی ہے۔ یہ فیصلہ ان کی رہائی کے صرف دو دن پہلے سامنے آیا ہے۔ تاہم ان کے کئی حامیوں کو خدشہ ہے کہ حکومت انہیں حراست میں رکھنا چاہے گی۔

آنگ ساں سوچی کے وکلا نے اس بارے میں دلائل دیے کہ ان کی اٹھارہ ماہ کی اپنے گھر پر نظر بندی ، جو ہفتے کو ختم ہورہی ہے، غیر قانونی تھی۔

لیکن اعلیٰ عدالت نے برما کی حزب اختلاف کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے لیڈر کی یہ تیسری اور آخری اپیل مسترد کردی۔

یہ فیصلہ گذشتہ دو عشروں میں اتوار کو ہونے والے پہلے انتخابات کے بعد سامنےآیا، جس میں فوج کی حمایت یافتہ پارٹیاں بڑے پیمانے پر فتح کی دعویدار ہیں۔

ان انتخابات کی فوجی حکمرانی کو تقویت دینے کا شرم ناک منصوبہ قراردیتے ہوئے بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی تھی۔

1990ء کے انتخابات نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے جیتے تھے مگر فوج نے نتائج کو نظر انداز کردیا اور حزب اختلاف کے راہنماؤں کو ملک چھوڑنے یا گرفتاریوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

برما کی جلاوطن حکومت کے ترجمان زین لین کہتے ہیں کہ انہیں جمعرات کے فیصلے پر کوئی حیرت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں برما میں ، ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں سینیئر جنرل تھان شو کے ماتحت ہیں۔ تھان شو تمام عدالتوں سے بالا ہیں۔ وہ قانون سے بھی بالا ہیں۔

حکومت نے نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کو اس سال کے انتخابات کا بائیکاٹ کرنےکی وجہ سے تحلیل کردیا تھا اور اب وہ ایک سماجی خیراتی تنظیم کے طورپر کام کررہی ہے۔

آنگ ساں سوچی گذشتہ 20 سال کے دوران زیادہ تر مدت کسی نہ کسی انداز کی حراست میں رہی ہیں۔

نوبیل انعام یافتہ راہنما کی اپنے گھر پر نظر بندی میں پچھلے سال اس کے اس واقعہ کے بعد توسیع کردی گئی تھی جب ان کے جھیل کنارے واقع گھر میں ایک امریکی شخص بن بلائے تیر کر چلا گیا تھا۔

انہیں مذکورہ شخص کی اطلاع حکام کو نہ دینے کی وجہ سےاپنے گھر پر نظر بندی کی شرائط کی خلاف وزری کا مرتکب ٹہرایا گیا تھا۔

ان کی نظر بندی کی مدت ہفتے کے روز ختم ہورہی ہے اور ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ آنگ ساں سوچی کو رہا کردیا جائے گا۔

وہ یہ کہہ چکی ہیں اگر انہیں رہا کیا گیا تو وہ ووٹنگ میں جعل سازی اور الیکشن کے دوران ڈرانے دھمانے کے الزامات کی تحقیقات کریں گی۔

زین لین کا کہنا ہے کہ ان کا یہ اقدام انہیں حراست میں رکھنے کے لیے حکومت کو کافی جواز فراہم کرسکتا ہے۔

متعلقہ

XS
SM
MD
LG