رسائی کے لنکس

برما پر تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے پر زور


برما کے صدر تھیئن سین

برما کے صدر تھیئن سین

صدر تھیئن سین کی طرف سے گزشتہ دو سالوں میں سینکڑوں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے لیکن اب بھی درجنوں جیلوں میں بند ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے برما کے صدر پر زور دیا ہے کہ وہ رواں سال کے اختتام تک تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کے اپنے وعدے کی پاسداری کریں۔

صدر تھیئن سین کی طرف سے گزشتہ دو سالوں میں سینکڑوں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے لیکن اب بھی درجنوں جیلوں میں بند ہیں۔ برما جسے میانمار بھی کہا تھا کہ یہاں اکثر یہ شکایت بھی سامنے آئی کہ حکومت اپنے ناقدین کو قید رکھنا چاہتی ہے۔

منگل کو ہیومن رائٹس واچ کا کہنا تھا کہ حکومت کی نظرثانی کمیٹی کی تیار کردہ فہرست کے مطابق اب بھی جیلوں میں 39 سیاسی قیدی موجود ہیں۔ لیکن اس فہرست میں وہ 200 لوگ شامل نہیں جنہیں رواں سال نئی قوانین کے تحت، جن میں مظاہروں پر سخت پابندیاں عائد ہیں، گرفتار کیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ برما ایسے تمام قیدیوں کو رہا کرے اور اس طرح کی گرفتاریوں کے سلسلے کو روکے۔

سیاسی قیدیوں کے جانچ پڑتال کرنے والی حکومت کی تشکیل کردہ کمیٹی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں صدر کو ایک خط میں ایسی ہی سفارشات ارسال کی تھیں۔

کمیٹی کے ممبران کی اعلیٰ سطحی حکومتی عہدیداروں سے منگل کو ملاقات متوقع ہے اور امید کی جارہی ہے کہ تمام سیاسی قیدیوں کو 31 دسمبر سے پہلے رہا کر دیا جائے گا۔

رواں سال کے اوائل میں صدر تھیئن سین نے لندن کے دورے کے موقع پر وعدہ کیا تھا کہ اس برس کے اختتام تک تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کردیا جائے گا۔

برما کی حکومت نے سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کے علاوہ دیگر کئی اصلاحات کی ہیں جن میں ذرائع ابلاغ پرعائد کئی پابندیاں نرم کیں اورجمہوریت پسند رہنما آنگ سان سوچی کو اپنی انتخابی مہم کامیابی سے چلانے کی اجازت بھی دی۔

مغربی ملکوں نے برما کی ان اصلاحات کو سراہا ہے اور بعض ممالک نے اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی ہے۔
XS
SM
MD
LG