رسائی کے لنکس

پابندیوں کےخاتمے کے لیے برما کو 'روڈ میپ' کی پیش کش


نمائندہ خصوصی برما کے دورے پر عام لوگوں سے ملاقات کے دوران

نمائندہ خصوصی برما کے دورے پر عام لوگوں سے ملاقات کے دوران

برما کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے حالیہ دورے کے دوران ملک کی نئی حکومت سے ان شرائط پر تبادلہ خیال کیا ہے جن کے تحت اس پرعائد امریکی پابندیاں اٹھائی جاسکتی ہیں۔

'وائس آف امریکہ' کی برمی سروس سے گفتگو میں امریکی نمائندہ خصوصی ڈیرک مچل نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ انہوں نے برمی دارالحکومت نے پئیاتا کے حالیہ دورے کے دوران مقامی رہنماؤں کو امریکی پابندیوں کے خاتمے کے لیے کیا اقدامات تجویز کیے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ برما کی جانب سے حوصلہ افزاء اشارے ملے ہیں اور امریکہ ’ان تجاویز پر‘ برما کے ردِ عمل کا جائزہ لے گا۔

برما کے بدلتے ہوئے رویے کا اظہار برمی حکومت کی جانب سے 'وی او اے برمی سروس' کے ایک نمائندے کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے بھی ہوتا ہے۔ رپورٹر کھن سو ون گزشتہ 16 برسوں میں برما میں داخل ہونے والے 'وائس آف امریکہ' کے پہلے نمائندے ہیں جنہوں نے رنگون میں امریکی ایلچی کا انٹرویو کیا۔

مچل گزشتہ ہفتے کے اختتام پر برما پہنچے تھے۔ گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ کی جانب سے برما کے لیے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے نامزدگی کی توثیق کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مچل نےجمعہ کو نے پئیاتا میں خارجہ امور، محنت، سماجی بہبود، اطلاعات اور سرحدی امور کے وزراء سے ملاقاتیں کی تھیں۔ امریکی ایلچی اب ملک کے سب سے بڑے شہر رنگون پہنچے ہیں جہاں وہ جمہوریت پسند رہنما آنگ سان سوچی اور دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

'وائس آف امریکہ' سے گفتگو میں مچل نے بتایا کہ برمی قیادت سے ان کی اب تک ہونے والی بات چیت نتیجہ خیز رہی ہے تاہم ان کے بقول اس حوالے سے قیاس آرائی قبل از وقت ہوگی کہ آیا برما کے ساتھ روابط بحال کرنے کی صدر اوباما کی پالیسی نتائج فراہم کر رہی ہے یا نہیں۔

واضح رہے کہ برما کی موجودہ حکومت نے ملک پر طویل عرصہ سے برسرِ اقتدار فوجی انتظامیہ کے تحت ہونے والے انتخابات کے بعد رواں برس مارچ میں اقتدار سنبھالا ہے۔

اقتدار میں آنے کے بعد سے نئی انتظامیہ نے عالمی برادری کے کئی اہم مطالبات تسلیم کرتے ہوئے نہ صرف آنگ سان سوچی کے ساتھ مذاکرات شروع کیے ہیں بلکہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی مبصرین کو بھی ملک میں داخلے کی اجازت دی ہے۔ نو منتخب حکومت نے ملک کے شمالی حصے میں برسرِ پیکار نسلی باغیوں کے ساتھ بھی مذاکرات کا آغاز کیا ہے جو اب تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے ہیں۔

نئی حکومت کے عہدیداران کی اکثریت سابق فوجی افسران پر مشتمل ہے جس نے حکومت کی تحویل میں موجود دو ہزار سے زائد سیاسی قیدیوں کے مستقبل کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیاہے۔

XS
SM
MD
LG