رسائی کے لنکس

یکم اپریل کو ہونے والے انتخابات کے جائزے اور اس کی رپورٹنگ کے لیے امریکہ سے دو مبصرین اور تین صحافی برما جائیں گے: امریکی محکمہٴ خارجہ

امریکہ نے برما میں آئندہ ماہ ہونےوالے ضمنی انتخابات کے جائزے کے لیےمبصرین بھیجنے کی برمی حکومت کی دعوت قبول کرلی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ یکم اپریل کو ہونے والے انتخابات کے جائزے اور اس کی رپورٹنگ کے لیے امریکہ سے دو مبصرین اور تین صحافی برما جائیں گے۔

محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے انتخابی عمل کے جائزے کی دعوت کو برما کی نئی سول حکومت کا "ایک خوش آئند اقدام" قرار دیا۔

ترجمان نے کہا ہے کہ واشنگٹن برمی انتخابات کی نگرانی کے معاملے پر خطے کے ممالک سمیت دیگر مبصر ممالک سے بھی مشاورت کرے گا۔

برمی حکومت کی دعوت پر امریکہ کے ردِ عمل سے چند گھنٹے قبل انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والی تھائی لینڈ کی تنظیم 'ایشین نیٹ ورک فار فری الیکشنز' کے نمائندوں نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا تھا کہ تنظیم کی کوآرڈی نیٹر کو برمی حکومت نے ملک سے چلے جانے کا حکم دیا ہے۔

تنظیم کے مطابق سیاحتی ویزے پر گزشتہ ہفتے برما پہنچنے والی سومسری ہنانونٹسک نامی اس کی کوآرڈی نیٹر سے کہا گیا ہے کہ وہ متعلقہ ویزے کے لیے دوبارہ درخواست دیں۔

ہنانونٹسک کے دورے کا مقصد اپنی تنظیم کو ضمنی انتخابات کی نگرانی کی اجازت دینے کے لیے برما کے انتخابی حکام کوآمادہ کرنا تھا۔

قبل ازیں، رنگون کے امریکی سفارت خانے کی ترجمان نے برمی حکومت کی جانب سے انتخابات کی رپورٹنگ کے لیے غیر ملکی صحافیوں کو بھی دعوت دیے جانے کو اہم قدم قرار دیا تھا۔

امریکہ اور یورپی یونین یکم اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخابات کی شفافیت اور آزادانہ انعقاد کو برما پہ عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں جس میں حزبِ اختلاف کی اہم رہنما اور نوبیل انعام یافتہ سیاست دان آنگ سان سوچی بھی امیدوار ہیں۔

XS
SM
MD
LG