رسائی کے لنکس

برما کی مغربی ریاست راکین میں تشدد کے واقعات میں 20 سے زیادہ ا فراد ہلاک ہوچکے ہیں اور نسلی راکین بودھ اور روہنگیا فرقے کے مسلمانوں کے درمیان جھڑپیں روکنے کے لیے حکومت پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہاہے۔

صدر تھین سین نے ریاست میں ہنگامی حالات کا اعلان کرکے وہاں امن وامان کے قیام کے لیے فوجی دستے بھیج دیے ہیں۔ ان فرقہ وارانہ فسادات میں سینکڑوں گھر تباہ ہوچکے ہیں۔

امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہاہے کہ علاقے میں تشدد قابو سے باہر ہوتا جارہاہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا کے لیے ایک عہدے دار فل رابرٹ سن نے کہاہے کہ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ پولیس اہل کار متاثرہ علاقے میں مسلمانوں کے مقابلے میں بودھوں کی طرف داری کررہے ہیں۔

منگل کے روز صوبائی صدر مقام سیتوے میں بڑی تعداد میں سیکیورٹی فورسز موجودتھیں مگر کئی جگہوں پر آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دے رہےتھے اور لوگ افراتفری کے عالم میں بھاگ رہے تھے۔

ہمسایہ مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش کے عہدے داروں کا کہناہے کہ ان کے سرحدی محافظوں نے جان بچانے کے لیے سرحد عبور کرنے والے 500 سے زیادہ مسلمانوں کو واپس بھیج دیا ہے۔

بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ فسادات سے متاثرہ برمی ریاست کے مسلمانوں کو داخلے کی اجازت دینا ملکی مفادات میں نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG