رسائی کے لنکس

ایسا لگتا ہے کہ اس بار پاکستان تحریک انصاف بھی صرف متحدہ قومی موومنٹ کیلئے میدان خالی نہ چھوڑنے کی غرض سے ان حلقوں میں انتخابی عمل کا حصہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے اس بار کراچی میں اپنے کسی جانے پہچانے رہنما کو میدان میں نہیں اتارا

کراچی میں صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں پی ایس 106 اور پی ایس 117 میں ضمنی انتخابات میں صرف دو روز باقی رہ گئے ہیں۔ لیکن، سیاسی جماعتوں کی انتخابی سرگرمیوں میں وہ جوش و خروش نظر نہیں آ رہا ہے، جو کراچی شہر کا خاصہ ہے یا جیسا کہ اب تک 246 اور 245 میں ہونے والے انتخابات کے موقع پر ہوتا رہا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے ووٹرز کو متحرک کرنے کیلئے ان حلقوں میں کئی کارنر میٹنگز کی ہیں، لیکن مدِمقابل جماعتوں میں اس ولولے اور جوش کا فقدان ہے جس کا مظاہرہ این اے 245 کے ضمنی انتخاب کے موقع پر دیکھنے میں آیا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ اس بار پاکستان تحریک انصاف بھی صرف متحدہ قومی موومنٹ کیلئے میدان خالی نہ چھوڑنے کی غرض سے ان حلقوں میں انتخابی عمل کا حصہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے اس بار کراچی میں اپنے کسی جانے پہچانے رہنما کو میدان میں نہیں اتارا۔

پی ایس 106 میں متحدہ قومی موومنٹ کے محفوظ یار خان ایڈووکیٹ، پیپلز پارٹی کے سردار عبدالصمد اور پی ٹی آئی کے نصرت انوار سمیت 14 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ پی ایس 117 میں ایم کیو ایم کےمیجر(ر) سید محمد قمر عباس رضوی، پیپلز پارٹی کے جاوید مقبول اور پی ٹی آئی کے رفاقت عمر سمیت 12 امیدوار مد مقابل ہوں گے۔

دونوں حلقوں پر ووٹنگ 2 جون کو ہوگی۔

پی ایس 106 کی نشست افتخار عالم اور پی ایس 117 کی نشست ڈاکٹر صغیر احمد کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی، ان دونوں رہنمائوں نے مصطفیٰ کمال کی پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

پی ایس 106
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق اس حلقے میں ووٹرز کی مجموعی تعدادایک لاکھ 77 ہزار 91 ہے جن میں مرد ووٹرز 99 ہزار 539 جبکہ خواتین ووٹر کی تعداد77 ہزار 552 ہے۔

سنہ 2013 کے عام انتخابات میں اس نشست پر متحدہ قومی موومنٹ کے افتخار عالم نے 75472 ووٹ لئے تھے، جبکہ ان کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف کے سلطان احمد 10773 ووٹ حاصل کرسکے تھے۔

پی ایس 117
اس حلقے میں ووٹرز کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 57 ہزار 223 ہے، مرد ووٹرز کی تعداد 84 ہزار 946 جبکہ خواتین ووٹر کی تعداد 72ہزار 277 ہے۔ 2013 عام انتخابات میں اس حلقے سے متحدہ قومی موومنٹ کے ڈاکٹر صغیر احمد 43924 ووٹ لے کامیاب قرار پائے تھے، جبکہ دوسرے نمبر پر پاکستان تحریک انصاف کے احسان جبار تھے، انہوں نے 21750 ووٹ حاصل کیے تھے۔

اس سے قبل اپریل کے پہلے ہفتے میں کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 245اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ 115میں ضمنی انتخاب ہوچکا ہے۔ ان دونوں حلقوں میں متحدہ قومی موومنٹ نے کامیابی حاصل کی تھی۔

XS
SM
MD
LG