رسائی کے لنکس

کراچی: حلقہ این اے 246 میں ضمنی انتخاب


فائل فوٹو

فائل فوٹو

قائم مقام الیکشن کمشنر سندھ تنویر ذکی کے مطابق پولنگ اسٹیشن کی سی سی ٹی وی کیمرہ مانیٹرنگ کا نظام بھی پولیس اور رینجرز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار پولنگ بوتھ میں رینجرز کی نگرانی میں کلوزڈ سرکٹ کیمرے نصب کئے گئے ہیں

کراچی سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 246میں ضمنی انتخاب میں پولنگ جمعرات کی صبح آٹھ بجے شروع ہوئی جو بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔

حکومت سندھ نے حلقے میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے، جبکہ سیکورٹی کی غرض سے پہلے ہی تین روز کے لئے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے۔

قائم مقام الیکشن کمشنر سندھ تنویر ذکی کے مطابق پولنگ اسٹیشن کی سی سی ٹی وی کیمرہ مانیٹرنگ کا نظام بھی پولیس اور رینجرز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار پولنگ بوتھ میں رینجرز کی نگرانی میں کلوزڈ سرکٹ کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے منصوبے کے مطابق ایک سی سی ٹی وی کیمرہ پولنگ اسٹیشن کے اندر، لیکن پولنگ بوتھ سے کچھ دور نصب ہوگا، جبکہ رینجرز کا ایک اہلکار پولنگ اسٹیشن کے اندر اور ایک باہر تعینات ہوگا۔

تینوں اہم امیدوار ووٹ نہیں ڈال سکیں گے


این اے 246 کراچی VIII کے تینوں اہم امیدوار اس حلقے میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے، کیوں کہ ایم کیو ایم کے کنورجمیل کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ ان کا ووٹ لطیف آباد کی یونین نمبر چار میں درج ہے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے امیدوار عمران اسماعیل کا ووٹ کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ہے جبکہ جماعت اسلامی کے راشد نسیم کا ووٹ نارتھ ناظم آباد کے حلقے میں درج ہے۔

الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کی نگرانی کے لئے 3ہزار افراد کو تربیت دی ہے۔ ان میں سے 1800 افراد فعال جبکہ1200 ریزرو رہیں گے۔

ہر پولنگ اسٹیشن پر ایک ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈنگ روم قائم کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ کسی بھی قسم کی شکایت کے ازالے کے لئے تین مراکز بھی قائم کئے ہیں۔ یہ دفاتر صوبائی الیکشن کمیشن ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اورریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں اپنے فرائض انجام دیں گے۔ ان مراکز کے ٹیلی فون نمبرز عوامی تشہیر کے ذریعے عام کئے جارہے ہیں۔

حلقے میں پولنگ کے ذریعے چار امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ پوری انتخابی مہم کے دوران اسے انتہائی اہم حلقہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ پورے ملک کے کسی بھی حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے چرچے اتنے نہیں ہوئے جتنے چرچے، شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی اس نشست کے لئے دیکھنے کو ملے۔

سیاسی حلقے اور تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ یہ نشست کراچی کے سیاسی مستقبل کارخ متعین کرے گی۔حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ یہاں امیدواروں کے درمیان انتخابی مقابلہ نہیں بلکہ شہرپر اپنی اکثریت ثابت کرنے کی ’سیاسی جنگ‘ ہے۔

حلقہ این اے 246 کے اہم علاقے


حلقہ این اے 246 کی حدود میں متعدد بڑے اور تجارتی علاقے شامل ہیں جیسے گلبرگ، لیاقت آباد، واٹر پمپ، نصیر آباد، عزیز آباد، حسین آباد، کریم آباد، فیڈرل بی ایریا، ایف سی ایریا، الاعظم اسکوائر، شریف آباد، بھنگوریہ گوٹھ، غریب آباد، اسحاق آباد، سکندر آباد، بندھانی کالونی، ریلوے کالونی، گوہر آباد، آصف کالونی اور موسیٰ کالونی وغیرہ۔

کامیابی نے جن کے قدم چومے


ماضی میں جو اہم شخصیات اس حلقے سے کامیابی حاصل کرچکی ہیں ان میں آفاق احمد، جن کا تعلق اس وقت مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) سے ہے، سید محمد اسلم، نیبل گبول (متحدہ قومی موومنٹ)، مظفر احمد ہاشمی (پاکستان اسلامک فرنٹ)، حسن مثنیٰ علوی (متحدہ قومی موومنٹ) اور حاجی عزیزاللہ بروہی ( ایم کیو ایم ) وغیرہ۔

حاجی عزیزاللہ بروہی نے 2004 میں اس نشست سے استعفیٰ دے دیا اور مئی 2004 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں متحدہ کے امیدوار نثار احمد پہنور کامیاب ہوئے۔ 2008 کے انتخابات میں اس حلقے سے ایم کیوایم کے امیدوار سفیان یوسف کامیاب ہوئے۔ دوہزار تیرہ کے انتخابات میں نبیل گبول کامیاب ہوئے مگر پارٹی سے اختلافات کی وجہ سے انہوں نے حالیہ مہینوں میں استعفیٰ دے دیا اور یوں 23 اپریل کو نئے انتخابات کا اعلان ہوا۔

XS
SM
MD
LG