رسائی کے لنکس

ناکامی ہی کامیابی کی سیڑھی بنتی ہے: رکن کانگریس حکیم جیفریز


حکیم جیفریز کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے اور وہ نیویارک کے علاقے بروکلین اور ساؤتھ ویسٹ کوئنیز سے منتخب ہوئے ہیں، جسے وہ اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتے ہیں۔

نیویارک ایک ایسا شہر ہے جہاں دنیا کے تقریباً ہر حصے سے آنے والے لوگ آباد ہیں اور وہاں کے متنوع معاشرے میں ہر ثقافت کے رنگ نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں اس طرح کے شہر کی نمائندگی کا فریضہ بہتر طور پر ایک ایسا شخص ہی سر انجام دے سکتا ہے جو مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں کی سوچ اور ضروریات سے بخوبی واقف ہو۔ حکیم جیفریز ایک ایسے ہی رکن کانگریس ہیں۔

ان کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے اور وہ نیویارک کے علاقے بروکلین اور ساؤتھ ویسٹ کوئنیز سے منتخب ہوئے ہیں، جسے وہ اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتے ہیں۔ ایوان نمائندگان میں یہ ان کی پہلی ٹرم ہے۔

ان کی خواہش ہے کہ ملک کو درپیش مسائل، متنوع آبادی کی ضروریات، جمہوریت کے فروغ اور دنیا بھر میں اپنے اتحادیوں کو مضبوط بنانے کے لیے کانگریس کے اندر دونوں سیاسی جماعتیں مل کر کام کریں۔

اپنے انتخابی حلقے کے بارے میں کانگریس مین حکیم جیفریز نے بتایا کہ وہاں تقریباً 81 زبانیں بولی جاتی ہیں اور مختلف مذاہب اور عقائد سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔لیکن ان سب کی منزل ایک ہے اور وہ ہے بچوں کی اچھی تعلیم، روزگار کے بہتر مواقع کی ضامن مضبوط معیشت، امن و امان، ایک دوسرے کا احترام ، بنیادی سہولتوں کی دستیابی اور پرسکون بڑھاپا۔ کانگریس مین جیفریز کے مطابق ان سب کے لیے وہ بھی کام کر رہے ہیں۔

اپنے ڈسٹرکٹ کی ایشیائی کمیونٹی کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس مین جیفریز نے کہا کہ وہاں بنگلہ دیشی امریکن کمیونٹی نسبتاً بڑی تعداد میں ہے اور علاقے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے وہ اکثر ان سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ایوان نمائندگان کا رکن منتخب ہونے سے پہلے مسٹر جیفریز نے دو مرتبہ ریاستی اسمبلی کی رکنیت کے لیے الیکشن لڑا، لیکن دونوں بار ناکام رہے۔ وہ کہتے ہیں انہوں نے اپنی ناکامیوں سے بہت کچھ سیکھا اور ناکامیاں ہی اصل میں کامیابی کی سیڑھی بنتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ میں اپنی ناکامیوں سے مایوس نہیں ہوا کیونکہ میرے سامنے کئی امریکی رہنماؤں کی مثالیں موجود تھیں جن کی کامیابیوں کا جنم ناکامیوں کی کوکھ سے ہوا تھا۔‘‘

کانگریس مین جیفریز جو پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں، کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی سرمایہ نہیں ہے، صرف جذبہ اور کچھ کر دکھانے کی خواہشات ہیں۔ صادق جذبہ، پختہ عزم اور ثابت قدمی راستے کی ہر مشکل آسان کردیتا ہے۔

کانگریس مین جیفریز کانگریس کی بجٹ کمیٹی کے رکن ہیں۔ سرکاری اخراجات اور کفایت شعاری کے پروگراموں پر ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنز کے درمیان اختلاف کے باعث امریکی حکومت کو اپنا بجٹ منظور کرانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے اثرات معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔

اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ معاشی دباؤ کاسامنا صرف امریکہ کوہی نہیں بلکہ یورپ اور چین سمیت دیگر اقتصادی طاقتوں کو بھی کرنا پڑ رہا ہے لیکن ان سب کے مقابلے میں امریکی معیشت مضبوط اور بہتر ہے۔ مسئلہ صرف خسارے کے دباؤ کا ہے جس سے باہر نکلنے کے لیے امریکی حکومت کوششیں کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ خسارہ بڑھتے بڑھتے 16 ٹریلن ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ دونوں پارٹیاں کفایت شعاری کے ایک مربوط پروگرام کے ذریعے اسے بتدریج کم کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن دونوں پارٹیوں کی ترحیجات مختلف ہیں۔ کانگریس مین جیفریز کہتے ہیں کہ پچھلی کانگریس میں ری پبلیکنز پارٹی گروپ کا بہت دباؤ تھا اور ان کا اپنا ایک خاص ایجنڈا تھا جس کی وجہ سے دونوں بڑی جماعتیں کسی تصفیے تک نہ پہنچ سکیں۔ مگر صدر براک اوباما کے دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہونے کے بعد انہیں توقع ہے کہ ڈیموکریٹس اور ری پبلیکن دونوں کوئی درمیانی راستہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

کانگریس مین حکیم جیفریز اپنی موجودہ حیثیت میں ابھی تک کسی غیر ملکی دورے پر نہیں گئے لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل، ترکی اور بنگلہ دیش جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ان کے غیر ملکی دوروں کی فہرست میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کے انتخابی حلقے میں ان دونوں ممالک کے باشندوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اوروہ جنوبی ایشیا کی ان ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کمیونیٹیز سے اپنے رابطے کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG