رسائی کے لنکس

سعودی عرب سے حقوق نسواں پر بات کی ہے، کیتھ ایلی سن


Urdu-VOA-Cafe-DC-Keith-Ellison-1280-720

Urdu-VOA-Cafe-DC-Keith-Ellison-1280-720

کانگریس مین کیتھ ایلی سن اس وقت ایک بار پھر عالمی شہ سرخیوں کا موضوع بن گئے جب انہوں نے اپنے عہدے کا حلف روایت سے ہٹ کر قرآن پاک پر اٹھایا۔

ڈیموکریٹک پا رٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی کانگریس کے مسلم رکن کیتھ ایلی سن نے کہا ہے کہ اپنے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر انہوں نے سعودی حکمرانوں کے سامنے خواتین کے حقوق کا مسئلہ اٹھایا ہے۔

وائس آف امریکہ کے ٹیلی ویژن شو کیفے ڈی سی میں اردو سروس کے سربراہ فیض رحمن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب میری ملاقات شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ہوئی تو میں نے انہیں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کو بہت اہمیت دیتے تھے اورجب ان پر پہلی وحی نازل ہوئی تھی وہ سب سے پہلے حضرت خدیجہ کے پاس گئے تھے ، جب کہ دوسری جانب سعودی عرب جیسے اسلامی ملک میں خواتین کو کار تک چلانے کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ معاشرتی زندگی میں انہیں بہت سی پابندیوں کا سامنا ہے اور ان کی کوئی مؤثر آواز نہیں ہے۔


کانگریس مین نے بتایا کہ سعودی کنگ نے کہا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کررہے ہیں. ان کا کہناتھا کہ حقوق دینے میں جتنا عرصہ امریکہ نے لگایا ہے ہم اس سے کم مدت میں یہ کام کرلیں گے۔ شاہ نے بتایا کہ خواتین کے حقوق کا ایک کمیشن قائم کردیا گیا ہے، اور کچھ خواتین کو بطور مشیر تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب میں کالج کی ڈگری حاصل کرنے والی خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔ کانگریس مین نے کہاہے کہ ان کا خیال ہے کہ سعودی حکام خواتین کے حقوق پر کام کررہے ہیں، وہ ایک قدامت پسند ملک ہے ، لیکن ان کا خیال ہے کہ تبدیلی لانے کا یہی بہترین وقت ہے۔

کانگریس مین کیتھ ایلی سن سعودی عرب کے کئی دورے کرنے کے علاوہ ایک بار حج اور دو مرتبہ عمرے کی سعادت بھی حاصل کرچکے ہیں۔انہوں نے حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی کتاب My Country, ' Tis of Thee میں وہاں کے روح پرور واقعات اور ہر رنگ، نسل اور خطے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کا ایک ساتھ عبادت کرنے اور خدا کے حضور سربسجود ہونے کا تذکرہ بڑے جذباتی انداز میں کیا ہے۔

کیفے ڈی سی میں کانگریس مین کیتھ ایلی سن سے انٹرویو میں زیادہ تر گفتگو ان کی کتاب کے پس منظر میں ہوئی ۔

امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان رکن کانگریس

امریکی تاریخ کے سب سے بڑے دہشت گرد حملے، نائین الیون کےصرف پانچ برس کے بعد، جب عوامی سطح پر غم و غصے کے جذبات ابھی اپنے عروج پر تھے، کیتھ ایلی سن ایک ایسے انتخابی حلقے سے امریکی کانگریس کے رکن منتخب ہوئے، جہاں مسلمانوں کی تعداد محض ایک فی صد اور سیاہ فاموں کی آبادی تقریباً دس فی صد تھی۔ سفید فام غالب اکثریتی علاقے سے ایک افریقی امریکی مسلمان کا کانگریس کا رکن منتخب ہونا ایک ایسا چونکا دینے والا واقعہ تھا، جس نے عالمی میڈیا کی توجہ فوراً اپنی جانب مبذول کروا لی۔

کیتھ ایلی سن اس وقت ایک بار پھر عالمی شہ سرخیوں کا موضوع بن گئے جب انہوں نے اپنے عہدے کا حلف روایت سے ہٹ کر قرآن پاک پر اٹھایا۔ اور یہ قرآن پاک کا وہ تاریخی نسخہ تھا جسے امریکہ کے تیسرے صدر ٹامس جیفر سن اپنے پاس رکھتے تھے ۔ کانگریس مین ایلی سن کہتے ہیں کہ دہشت گردی کی مدد سے آپ کسی پراپنے عقائد اور نظریات مسلط نہیں کرسکتے۔ دل جیتنے کے لیے آپ کو قربانی دینی پڑتی ہے۔

محمد سلمان ہمدانی کی قربانی

کانگریس مین کیتھ ایلی سن نے اپنے انٹرویو میں ایک 23 سالہ امریکی نوجوان محمد سلمان ہمدانی کا ذکر کیا جو پاکستان میں پیدا ہوا اور ا مریکہ میں پروان چڑھا، جو فٹ بال کا شیدائی تھا اور بالکل امریکی نوجوانوں جیسا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سانحے کے وقت عمارتوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے بکھر رہے تھے ، ملبہ گررہا تھا ، آگ اور دھوئیں کے بادل بلند ہورہے تھے اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے سانحے کے مقام سے دور بھاگ رہے تھے، مگر ہمدانی اپنی جان کی پروا کیے بغیر شعلوں میں گھس کر ملبے میں سے زخمیوں کو نکال رہاتھا۔ اس نے دوسروں کی جانیں بچانے کے لیے اپنی جان قربان کی۔ یہ مسلم نوجوان امریکہ کا ہیرو ہے۔ دہشت گردی کی بات کرتے ہوئے ہمیں ان مسلمانوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے دوسروں کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں بہت سے مسلمان ہیں۔ان کا تعلق دنیا کے مختلف علاقوں سے ہے اور وہ امریکہ کو ترقی دینے اور اسے ایک بہتر ملک بنانے کے لیے دن رات محنت کررہے ہیں۔ ہمیں ان کی خدمات کو نظر انداز نہیں کرناچاہیے۔

کتاب My Country, 'Tis of Thee

حال ہی میں کانگریس مین کیتھ ایلی سن کی ایک کتاب My Country, 'Tis of Thee: My Faith, My Family, Our Future شائع ہوئی ہے۔ وائس آف امریکہ کے ٹیلی ویژن شو کیفے ڈی سی میں اپنے انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر انہوں نے یہ کتاب چھ ماہ میں مکمل کی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنے نظریات اور یادوں کو یک جا کیا ہے۔

کانگریس مین نے اس کتاب میں امریکہ میں آباد مختلف نسلوں کے درمیان تعلقات کی تاریخ اور انہیں مضبوط بنانے کے پہلو کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ مصنف کا کہناہے کہ مختلف نسلوں اور عقائد کے درمیان روابط کی بہتری امریکہ کی مضبوطی اور استحکام کی ضامن ہے۔ انہوں نےکہا کہ مساوی حقوق قومیتوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں ہے۔

مارٹن لوتھر کنگ کی جدوجہد بھی معاشرتی اور معاشی حقوق کے لیے تھی۔ معیشت کی غیر منصفانہ تقسیم امیر اور غریب کی خلیج کو وسیع کرتی ہے ، جس سے خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رنگ نسل علاقے اور عقیدے کی بنیاد پر کسی سے امتیازی سلوک نہیں کیا جانا چاہیے اور سب کے لیے آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے مساوی مواقع دستیاب ہونے چاہیں۔

کانگریس مین کیتھ ایلی سن نے، لوتھر کنگ کے خواب کو تعبیر کی منزل تک پہنچانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس وقت ہمیں چند بنیادی چیزوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پہلی چیز انفراسٹرکچر کی تعمیر نو پر سرمایہ کاری کرنا ہے جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ دوسری چیز کارکنوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔ امریکہ میں مزدور یونینزکمزور پڑنے سے کارکنوں کی اجرتیں متاثر ہورہی ہیں۔ تیسری چیز تجارتی پالیسی ہے، جس کی مدد سے وہ دنیا بھر کے کارکن کی حالت سدھارنے کا کام لے سکتا ہے۔

امریکی تجارتی پالیسی اور مزوروں کے حقوق

کانگریس مین کیتھ ایلی سن کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنی تجارتی پالیسی کے ذریعے ان ملکوں کے مزدوروں کے کام کے حالات اور اجرتیں بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے، جن سے وہ مصنوعات درآمد کرتا ہے۔ انہوں نے چین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں مزدوروں کو بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں ، کام کا ماحول بہتر نہیں اور ان کی اجرتیں بہت کم ہیں ، جب کہ امریکہ چینی مصنوعات کی ایک بہت بڑی منڈی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش کی زیادہ تر گارمنٹس

امریکی مارکیٹ میں فروخت ہوتی ہیں ، جب کہ بنگلہ دیشی مزدوروں کی اجرتیں بہت کم ہیں۔ کام کرنے کے حالات ناگفتہ بہ ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ہونے والے حادثوں میں وہاں کے سینکڑوں کارکن اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ امریکی حکومت کو اپنی تجارتی پالیسی کو مؤثر بناکر وہاں کے مزدوروں کی حالت میں بہتری لاسکتی ہے۔

مختصر تعارف

کیتھ ایلی سن امریکی ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ کے ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے لیکن بعد ازاں اسلامی تعلیمات کے مطالعے کے بعد انہوں نے19 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک وکیل کے طور پر کیا اور پھر عملی سیاست میں حصہ لینے لگے۔ وہ ایک ڈیموکریٹ ہیں اور مسلسل چوتھی بار الیکشن جیت کر کانگریس میں پہنچے ہیں۔ وہ منی سوٹا کے ایک انتخابی ڈسٹرکٹ کی نمائندگی کرتے ہیں جس کی آبادی ساڑھے سات لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔

کانگریس مین کیتھ ایلی سن کی یہ کتاب دنیا بھر کے قارئین کے لیے ایمیزن ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے ۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG