رسائی کے لنکس

اپنی سرزمین پر "پراکسیز" رکھنا عقل مندی نہیں: رضا رومی


FB-Live-Raza-Rumi

FB-Live-Raza-Rumi

رضا رومی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند گروہوں اور طالبان کے علاوہ فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث تنظیمیں بھی موجود ہیں جن کے مکمل خاتمے تک صوبے میں مکمل امن قائم نہیں ہوگا۔

معروف پاکستانی صحافی اور تجزیہ کار رضا رومی نے کہاہے کہ پاکستان، بھارت اور افغانستان تینوں ہی دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں جس سے نبٹنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ تینوں ملک پراکسی جنگ اور الزامات کی سیاست سے نکل کر مل بیٹھ کر شدت پسندی کا مسئلہ حل کریں۔

وائس آف امریکہ اردو کے پروگرام 'کیفے ڈی سی' کے فیس بک لائیو اسپیشل میں گفتگو کرتے ہوئے رضا رومی نے کہا کہ پاکستان کے تین پڑوسی ملک –بھارت، افغانستان اور ایران – اسلام آباد سے خفا ہیں اور کوئی بھی ملک اس طرح کی صورتِ حال میں زیادہ دیر نہیں رہ سکتا۔

ان کے بقول پاکستان کو چاہیے کہ اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ اپنے تنازعات اور اختلافات کو مل بیٹھ کر حل کرے تاکہ خطے میں ترقی کا سفر تیز ہوسکے۔

پروگرام کے میزبان اور وی او اے کی اردو سروس کے سربراہ فیض رحمان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے رضا رومی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا مسئلہ خاصا پیچیدہ ہے جس پر قابو پانے کے لیے ایک تفصیلی حکمتِ عملی تشکیل دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں وکلا پر ہونے والے دہشت گرد حملے سے واضح ہوا ہے کہ ضربِ عضب کے باوجود پاکستانی طالبان کی اندرونِ ملک حملہ کرنے کی صلاحیت برقرار ہے۔

ایک سوال پر کہ کیا پاکستانی حکومت کی جانب سے بغیر کسی ثبوت کے کوئٹہ حملے کا الزام بھارت پر عائدکرنادرست طرزِ عمل ہے، رضا رومی نے کہا کہ بین الاقوامی سیاست میں یہ عمل غیر معمولی نہیں اور خود بھارت بھی پاکستان سے متعلق ایسی روش پر کاربند ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرگرم کئی شدت پسند گروہ کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ ان گروہوں کو بھارت کی مدد حاصل ہے۔

رضا رومی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند گروہوں اور طالبان کے علاوہ فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث تنظیمیں بھی موجود ہیں جن کے مکمل خاتمے تک صوبے میں مکمل امن قائم نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں باضابطہ طور پر افغانستان اور کشمیر میں جہادی گروہوں کو مدد دیتا رہا ہے لیکن اب پاکستان کے مقتدر طبقوں کی سوچ تبدیل ہورہی ہے اور شدت پسند گروہوں کے خلاف موثر کارروائی کی جارہی ہے جس کے نتائج فاٹا میں سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ریاست کے لیے خود اپنی سرزمین پر "پراکسی" رکھنا عقل مندی نہیں۔

فیض رحمن کے اس سوال پر کہ پاکستان کے حکمران طبقے کے ان بیانات میں کتنی صداقت ہے کہ دنیا پاک چین اقتصادی راہداری سے خائف ہے اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات اسی منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں، رضا رومی نے کہا کہ بھارت نے اس منصوبے کی کھل کر مخالفت کی ہے لیکن اس کے علاوہ کسی اور ملک نے اس منصوبے پر کوئی منفی تبصرہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ اقتصادی راہداری سے خائف بعض طاقتیں اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں لیکن ہمیں سازشی نظریات پروان چڑھانے کے بجائے اپنے گھر کے معاملات درست کرنے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ کوئی دشمن ہمارے داخلی انتشار کا فائدہ نہ اٹھاسکے۔

XS
SM
MD
LG