رسائی کے لنکس

جنرل راحیل کو ’با اختیار جوائنٹ چیفس آف اسٹاف‘ بنایا جائے: اکرام سہگل


’وائس آف امریکہ‘ اردو سروس کے پروگرام ’کیفے ڈی سی‘ میں گفتگو کرتے ہوئے اگر یہ عہدہ جنرل راحیل شریف کو دے دیا جائے تو وہ دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم اور صلاحیتوں کو زیادہ بہتر طور پر بروئے کار لا سکیں گے۔

دفاعی تجزیہ کار اکرام سہگل کا کہنا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے پیش نظر، بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو ان کی مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد، بااختیار جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے عہدے پر تعینات کیا جائے۔

’وائس آف امریکہ‘ اردو سروس کے ٹیلی ویژن شو، ’کیفے ڈی سی‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ چیفس آف سٹاف کا عہدہ سب سے بڑا ہونے کے باوجود، اسے اہمیت نہیں دی جاتی، جب کہ تینوں سروسز کے سربراہ اس کے ماتحت ہوتے ہیں‘‘۔

بقول اُن کے ’’اب جب کہ پاکستان کے پاس جوہری اثاثے ہیں اور ان کے لیے ایک خصوصی فورس بھی تشکیل دی گئی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ چیفس آف سٹاف کے عہدے کو فعال اور طاقت ور بنایا جائے۔ اور اگر جنرل راحیل شریف کا ملکی تقاضوں اور ضروریات کے پیش نظر فوج میں رہنا ضروری ہے تو یہ عہدہ انہیں دے دیا جائے۔ یہ ایک لحاظ سے انہیں اگلے عہدے پر ترقی دینے کے مترادف ہو گا اور وہ تین سال تک مؤثر طور پر اپنا کردار ادا کر سکیں گے‘‘۔

شو کے میزبان، فیض رحمٰن کے اس سوال کے جواب میں کہ جنرل راحیل شریف کو اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے کے 11 مہینے پہلے ایک ایسے موقع پر توسیع قبول نہ کرنے کا اعلان کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی جب وزیر اعظم بھی ملک سے باہر تھے، اکرام سہگل نے کہا کہ اصل میں، جنرل مشرف کی جانب سے انہیں توسیع دیے جانے کا مطالبہ سامنے آنے اور پھر اس معاملے میں دوسرے افراد کے کود پڑنے کے بعد، صورت حال متنازع ہو گئی تھی۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’چونکہ راحیل شریف اس سال کے اختتام تک اپنے ضرب عضب کے مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے خواہش مند ہیں، اس لیے انہیں یہ اعلان کرنا پڑا۔ وہ اس تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے اور اپنی پوری توجہ اپنا مشن مکمل کرنے پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ راحیل شریف کی جانب سے توسیع نہ لینے کی ’’ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ماضی میں جس فوجی سربراہ کو بھی توسیع دی گئی اس نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جس سے فوج کی بدنامی ہوئی‘‘۔

دفاعی تجزیہ کار نے کہا کہ واضح رہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع غیر قانونی ہے، کیونکہ توسیع صرف ایک سال کی ہوتی ہے۔ بقول اُن کے کسی کو تین سال کی توسیع دینا اصل میں اس کی اپنے عہدے پر دوبارہ تعیناتی کرنا ہے۔

پاکستان میں امن و امان کی صورت حال اور خطے میں دہشت گردی کے خطرے کو سامنے رکھتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ایک تجویز یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جی ایچ کیو میں رینجرز، ایف سی، اے ایس ایف، ڈیفنس سکیورٹی فورس اور اسی طرح کی تمام فورسز کا ایک ڈائریکٹوریٹ اور اس میں نیوکلیئر اثاثوں کے لیے قائم خصوصی فورس کے اشتراک سے ہوم لینڈ سکیورٹی کا ایک ادارہ قائم کر دیا جائے اور اس کا سربراہ ایک فور اسٹار جنرل مقرر کردیا جائے۔

اور اکرام سہگل کے بقول اگر یہ عہدہ جنرل راحیل شریف کو دے دیا جائے تو وہ دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم اور صلاحیتوں کو زیادہ بہتر طور پر بروئے کار لا سکیں گے۔

پی آئی اے کی نج کاری اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہڑتال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اکرام سہگل کا کہنا تھا کہ نون لیگ نجکاری کی حامی ہے اور نجکاری کے وزیر محمد زبیر کی کارکردگی بہت قابل تعریف ہے۔

اسی طرح، شجاعت عظیم نے بھی بہت کام کیا ہے۔ لیکن، پی آئی اے کے معاملے میں بظاہر شفافیت کی کمی دکھائی دیتی ہے جس سے ان قیاس آرائیوں نے جنم لیا کہ ادارے کو کسی دوست کے سپرد کر دیا جائے گا۔ اور تنازع بڑھتے بڑھتے ہڑتال پر منتج ہوا۔

اکرام سہگل کا کہنا تھا کہ اپنی موجودہ ہیت میں، پی آئی اے زندہ نہیں رہ سکتی۔ تنخواہوں کے ساتھ ساتھ اس کے ملازموں کو اتنی زیادہ مراعات حاصل ہیں جن کے ساتھ کوئی بھی ادارہ اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا۔

پی آئی اے کے جہازوں میں سفر کرنے والے مسافروں کی ایک بڑی تعداد ان کی فیملی اور رشتے داروں کی ہوتی ہے جنہیں مفت سفر کی سہولت حاصل ہے۔ اسی طرح، پی آئی اے میں بڑے اور درمیانی سطح کے منیجرز کی بہتات ہے ’’جن میں سے اکثر غیر ضروری ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’غیر ضروری عہدوں کا خاتمہ اور مراعات میں کمی کیے بغیر، پی آئی اے کو نہیں چلایا جاسکتا‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پی آئی اے کے سپورٹنگ شعبوں، مثلاً کیٹرنگ، ٹرانسپورٹ، صفائی ستھرائی اور سکیورٹی کو ہوابازی کے شعبے سے الگ کر دیا جائے، تو یہ ادارہ منافع بخش بن سکتا ہے۔

پی آئی اے کو نجی شعبے کے سپرد کیے بغیر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں، اکرام سہگل نے تین نکاتی تجویز پیش کی۔

اول، یہ کہ ایک پروفیشنل انتظامیہ لائی جائے جو بااختیار اور بیرونی مداخلت سے پاک ہوا۔ دوسرا یہ کہ انتظامیہ اعلیٰ اور درمیانی سطح کے عہدوں کا جائزہ لیا جائے اور غیر ضروری عہدے ختم کیے جائیں اور تیسرا یہ کہ، سپورٹنگ شعبوں کو ہوا بازی سے الگ کردیا جائے۔

XS
SM
MD
LG