رسائی کے لنکس

سفارت کاری ایک مشکل کام ہے: سابق امریکی سفیر عثمان صدیق


فجی کے لیے سابق امریکی سفیر محمد عثمان صدیق کا کہناہے کہ پالیسیاں ملکی مفادات اور معروضی حالات کے تابع ہوتی ہیں

’وائس آف امریکہ‘ کے ٹیلی ویژن شو ’کیفے ڈی سی‘ میں اُرود سروس کے سربراہ فیض رحمٰن سے اپنے انٹرویو میں، سابق امریکی سفیر عثمان صدیق نے کہا ہے کہ ’اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ تیسری دنیا اور ترقی پذیر ملکوں میں امریکی سفارت کار وہاں کی سیاست اور حکومت پر گہرا اثر و رسوخ رکھتے ہیں؛ اور امریکی سفیر کو سفارتی کمیونٹی میں ایک بہت طاقت ور اور توانا شخصت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ ایک معاشرتی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی ایک اہم ترین فوجی اور اقتصادی قوت بھی ہے‘۔

عثمان صدیق کا کہنا تھا کہ امریکی سفارت کاروں کو اپنی اس طاقت کا استعمال بڑی دانش مندی کے ساتھ استعمال کرنا چاہیئے، اور ان کے خیال میں، اکثر امریکی سفیروں میں یہ اہلیت اور صلاحیت موجود ہے۔

سابق سفیر عثمان صدیق نے یوکرین اور شام کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ، ’آج کے دور میں سفارت کاری ایک مشکل کام بن چکا ہے اور ہمارے بہت سے سفارت کار انتہائی مشکل حالات میں اگلے محاذوں پر کام کر رہے ہیں۔ ہمارے ایک ساتھی اور لیبیا کے سابق سفیر سفارتی خدمات کے دوران بن غازی میں مارے گئے۔ اس سے ملتے جلتے اور بھی بہت سے واقعات پیش آچکے ہیں‘۔​

عثمان صدیق کو سابق صدر کلنٹن نے سنہ 2000 میں ایک ایسے وقت میں فجی کا سفیر مقرر کیا جب وہاں بغاوت کے بعد حکومت کا تختہ الٹے جانے کی وجہ سے حالات بہت مخدوش تھے۔

فجی میں ایک سفارت کار کے طور پر اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، ’فجی ایک بہت خوبصورت تفریحی جزیرہ ہے۔ وہاں کے لوگ سیاسی طورپر بڑے متحرک ہیں اور حکومت کے خلاف شورش برپا ہونے کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں، جس کا تعلق عموماً وہاں پائی جانے والی نسلی تفریق سے ہے‘۔

عثمان صدیق نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ’فجی کی مقامی آبادی یہ محسوس کرتی ہے کہ سو سوا سو سال پہلے جنوبی ایشیاء سے نقل مکانی کرکے آنے والے باشندےملک کے وسائل اور اختیارات پر قابض ہو گئے ہیں۔ فجی کے ہندوستانی تارکین وطن میں دس سے پندرہ فی صد تک مسلمان جب کہ باقی اکثریت ہندوؤں کی ہے جب کہ فجی کی مقامی آبادی عموماً عیسائی ہیں۔ 2000ء میں ہونے والی بغاوت بھی کلی طور پر نسل پرستی کی کوکھ سے پھوٹی تھی۔ میں نے امریکی سفیر کے طور پر وہاں کے حالات معمول پر لانے اور نسلی طبقوں کے درمیان فاصلے گھٹانے اور آئین بحال کرانے میں کے لیے کام کیا۔ مجھے وہاں حکومت اور عوامی طبقوں کی بھرپور تائید اور حمایت حاصل تھی۔ اگرچہ میرے عہدے کی معیاد 2001 ء میں ختم ہوگئی، مگر صدر کلنٹن کے دور کے اختتام کے بعد صدر بش نے مجھے دوبارہ فجی میں سفیر تعینات کر دیا، تاکہ میں وہاں مفاہمت کے عمل کو تکمیل تک پہنچا سکوں‘۔

جنوبی ایشیاء سے تعلق رکھنے والے عثمان صدیق کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اس عہدے پر پہنچنے والے پہلے مسلمان ہیں اور انہیں اس پر بھی فخر ہے کہ امریکہ کے پہلے مسلمان کانگریس مین کیتھ ایلی سن کی طرح وہ بھی قرآن پاک پر حلف اٹھانے والے پہلے امریکی عہدے دار ہیں۔

عثمان صدیق ڈھاکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عثمان غنی متحدہ پاکستان کے ایک معروف سائنس دان اور ماہر ِتعلیم تھے۔ وہ کراچی میں فوڈ اینڈ ایگریکلچر کمیشن سے وابستہ رہے اور انہوں نے پاکستان انرجی کمشن کے لیے بھی کام کیا۔ پشاور میں کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ بعدازاں، انہوں نے ڈھاکہ میں پاکستان ایگریکلچر یونیورسٹی کی بنیاد رکھی اور اس کے وائس چانسلر مقرر ہوئے۔ انہوں نے تنزانیہ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر بھی خدمات سر انجام دیں۔

عثمان صدیق اپنی نوجوانی کا کچھ عرصہ کراچی اور پشاور میں گزار چکے ہیں۔ وہ کراچی یونیورسٹی کے طالب علم بھی رہے ہیں اور طالب علم کے طور پر ہی وہ امریکہ آئے اور انڈیانا یونیورسٹی کے اسکول آف بزنس سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے اپنی کمپنی بھی قائم کی اور اپنا کاروبار اس کامیابی سے چلایا کہ کمپنی کی مالیت ڈیڑھ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ امریکہ ایک ایسا ملک ہے جو دنیا بھر کے لوگوں کو اپنے ہاں آنے، محنت کرکے اپنا مقام بنانے، خوش حالی حاصل کرنے اور تمام شعبوں میں آزادانہ آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

عثمان صدیق کا کہناتھا کہ آج کا امریکہ پچاس سال پہلے کے امریکہ سے بہت مختلف ہے۔ اب یہاں بڑی تعداد میں ہسپانوی، عرب اور ایشیاء سے آنے والے لوگ معاشرے کا ایک نمایاں حصہ بن چکے ہیں۔ یہاں کا آئین سب کے حقوق کی یکساں حفاظت کرتا ہے۔ یہاں سب سے طاقت ور چیز آئین و قانون ہے۔ اب یہاں آپ بھارتی نژاد امریکیوں کو گورنر اور پارلیمنٹ کے ممبر کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ جنوبی ایشیاء سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ اعلیٰ انتظامی عہدوں پر کام کر رہے ہیں اور پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں بڑے اعتماد سے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

سابق سفیر عثمان صدیق کا کہنا تھا کہ امریکہ میں آباد پاکستانی، بھارتی اور بنگلہ دیشی اگر ہسپانوی اور دوسرے علاقائی گروہوں کی طرح ایک اکائی کے طور پر مل کر کام کریں اور ایک دوسرے کا ساتھ دیں تو ان کی ترقی کی رفتار کہیں تیز ہوسکتی ہے، جس کا فائدہ ان کے ہم وطنوں کو بھی پہنچے گا۔
XS
SM
MD
LG