رسائی کے لنکس

امریکی انخلا پاک افغان مفاد میں نہیں: کانگریس مین جِم مورین


افغان جنگ کا ذکر کرتے ہوئے، جم مورین نے کہا کہ ’جنگ شروع ہونے سے اب تک ہم وہاں تقریباً ایک ٹریلین ڈالر خرچ کر چکے ہیں۔ لیکن وہاں ہمارے لیے شکریے کا ایک لفظ تک نہیں ہے‘

کانگریس مین جِم مورین کا کہنا ہے کہ افغانستان کو امریکہ کے ساتھ سکیورٹی کے دوطرفہ معاہدے پر جلد دستخط کر دینے چاہیں، کیونکہ دستخط نہ ہونے کی صورت میں، امریکہ اس سال کے آخر تک افغانستان سے چلا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ کے انخلاٴ سے افغانستان اور ہمسایہ ملک پاکستان پر بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے، ’کیونکہ امریکی فورسز کے چلے جانے سے طالبان کو کابل پر قبضے کا موقع مل سکتا ہے، یا پھر افغانستان کی پشتو بولنے والی آبادی پختونستان کے نام سے اپنا ایک الگ ملک قائم کرسکتی ہے، جو یقینی طور پر پاکستان کے لیے ایک شدید خطرہ بن سکتا ہے‘۔

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے کانگریس مین جم مورین ڈیفنس کمیٹی کے ساتھ افغانستان اور پاکستان کا دو ہفتے کا دورہ کرنے والے ہیں۔ یہ کمیٹی افغانستان کے لیے فنڈز منظور کرتی ہے اور حالیہ بجٹ میں اس ملک کے لیے 85 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں، جن کا اجرا معاہدے پر دستخط نہ ہونے کی صورت میں کھٹائی میں پڑسکتا ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ اردو سروس کے سربراہ، فیض رحمان سے ’کیفے ڈی سی‘ کے لیے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کابل کے دورے میں افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات متوقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سے افغان صدر نے انتخابی مہم میں امریکہ پر نکتہ چینی شروع کی ہے، ادھر امریکہ میں یہ سوال اٹھا کہ ہم انہیں اور ان کی انتظامیہ کو اربوں ڈالر کیوں دے رہے ہیں اور اسے خداحافظ کہہ دینا چاہیئے۔ مگر امریکہ کا خطے سے جانے کے مضمرات بڑے شدید ہو سکتے ہیں۔

امریکی کانگریس مین نے کہا کہ ’دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ اگر آپ ان کے اخبارات دیکھیں تو وہ امریکی مخالفت سے بھرے پڑے ہیں۔ اگر آپ کے ان قانون سازوں سے بات کریں تو وہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہاں کی تمام خرابیوں کی ذمہ دار سی آئی اے ہے۔ جب کہ وہاں پر ہمیں پڑھے لکھے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے ایسے دوستوں کی ضروت ہے جن پر لیڈر بننے کی توقع رکھی جاسکے۔ جو ٹیکسوں کے نظام اور عوام کے لیے اسکوں کے قیام پر یقین رکھتے ہوں اور جو 21 ویں صدی کی قیادت کے طور پر ابھر سکتے ہوں۔ ضرورت اس چیز کی ہے کہ صورت حال کا ادراک کیا جائے۔ انہیں امریکہ کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر وہ دوسرے ملکوں کی جانب دیکھیں گے تو وہ اس کے بدلے میں وہ ایسے مطالبے کریں گے اور جو ان ملکوں کے طویل مدتی مفاد کے خلاف ہوگا‘۔

افغان جنگ کا ذکر کرتے ہوئے، جم مورین نے کہا کہ جنگ شروع ہونے سے اب تک ہم وہاں تقریباً ایک ٹریلین ڈالر خرچ کرچکے ہیں۔ ’لیکن، وہاں ہمارے لیے شکریے کا ایک لفظ تک نہیں ہے۔ امریکہ افغانستان کو اربوں ڈالر دے رہا ہے اور اس کے بدلے میں کچھ مانگ نہیں رہا سوائے اس کے آپ اپنے ہاں سکولوں کا نظام قائم کریں، خواتین کو بااختیار بنائیں، شفاف انتخابات کرائیں، پروفیشنل پولیس سسٹم لائیں، بدعنوانی پر قابو پائیں۔ ہم آپ کو جو اربوں ڈالر دیتے ہیں اس سے ضرورت مند افراد کو فائدہ پہنچائیں۔ بس ہمیں آپ سے یہی چاہیئے۔ دنیا کے بہت کم ملک اس انداز میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ لیکن، اگر آپ وہ نہیں کرنا چاہتے جو افغانستان کے مفاد میں ہے تو پھر امریکہ یہاں سے چلا جائے گا اور اس کے بعد وہاں کا خدا ہی حافظ ہے‘۔

عراق جنگ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والے کانگریس مین کا کہنا تھا کہ عراق جنگ کی ناکامی کی بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ ہم نے ایک ایسا صدر منتخب کیا جو خارجہ پالیسی کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتے تھے ۔ انہوں نے اپنے گرد ایسے افراد کا ایک گروپ اکھٹا کرلیا جن کا مخصوص ایجنڈا تھا جو امریکی مفاد میں نہیں تھا۔ ان میں سے کوئی کبھی بھی میدان جنگ میں نہیں گیا تھا۔
لیکن، انہوں نے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اس ملک کے مردوں اور عورتوں کو وردی پہنا کر جنگ میں اتار دیا۔ صدر کی معلومات کا یہ عالم تھا کہ جنگ کے چھ مہینوں کے بعد جب انہوں نے عراقی نژاد امریکیوں کے ایک گروپ سے جنگ عراق کے موضوع پر بات کی تو انہوں نے شیعہ سنی کے اختلافات کا مسئلہ اٹھایا۔ جس پر صدر نے حیرت سے پوچھا کہ یہ شیعہ اور سنی کیا چیز ہے اور اس کا جنگ سے کیا تعلق ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طورپر یہ سمجھتے ہیں کہ صدام حسین امریکہ کے لیے خطرہ نہیں تھا؛ اور یہ کہ عراق جنگ کا اصل فاتح ایران بن گیا ہے، کیونکہ عراق کی اکثریتی آبادی شیعہ ہے۔ جِم موران کے بقول، صدام حسین خطے میں شیعہ امارات بننے کی راہ میں ایک رکاوٹ تھا۔ اب ایران، شام اور لبنان کے درمیان کوئی رکاوٹ حائل نہیں رہی۔

انہوں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو جواز بنا کر عراق پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صدر بش نے امریکی عوام کو غلط معلومات فراہم کیں تھیں۔

کانگریس مین جم مورین امریکی ریاست ورجینیا کے آٹھویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے 1991ء سے منتخب ہوتے آ رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ 1985 ءسے 1990 ءتک ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا کے میئر بھی رہ چکے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ کانگریس میں اپنی موجودہ ٹرم ختم ہونے کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG