رسائی کے لنکس

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان باصلاحیت، جفاکش، محنتی اور ذہین لوگوں کا ملک ہے جو اپنی، اپنے خاندان اور اپنے ملک کی حالت بہتر بنانے کے لیے سخت جدوجہد کر رہے ہیں

امریکہ کے اکثر کانگریس مین مختلف شعبوں میں اپنےکردار اور ذمہ داریوں کے باعث اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان میں ایک کانگریس مین ایسے بھی ہیں جن کی ایک اور خاص شناخت ان کا مذہب بھی ہے۔ وہ امریکی کانگریس کے پہلے مسلمان رکن ہیں اور اس وقت وہ دنیا بھر کی توجہ کا خاص مرکز بن گئے جب انہوں نے کانگریس میں اپنا حلف امریکی آئین کی بجائے قرآن پاک کے ایک ایسے نسخے پر اٹھایا, جسے تیسرے امریکی صدر ٹامس جیفر سن اپنے پاس رکھتے تھے۔ اور اس کانگریس مین کا نام ہے کیتھ ایلی سن۔

مسٹر ایلی سن 2006ء کانگریس کے رکن منتخب ہوتے آرہے ہیں۔ وہ منی سوٹا کے ایک انتخابی ڈسٹرک کی نمائندگی کرتے ہیں جس کی ساڑھے سات لاکھ کی متنوع آبادی میں عیسائی، یہودی، مسلمان اور دیگرمذاہب اور دنیا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

کانگریس مین اکیتھ ایلی سن کو پاکستان بہت پسند ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں پاکستانیوں کی بہت قدر کرتا ہوں اور اس سال دوبارہ پاکستان کے دورے جانا میری ترجیح ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے ایک ایسے وقت میں پاکستان کا سفر کیا تھا جب وکلاء قانون کی حکمرانی کے لیے سڑکوں پر اپنی تحریک چلا رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان باصلاحیت، جفاکش، محنتی اور ذہین لوگوں کا ملک ہے جو اپنی، اپنے خاندان اور اپنے ملک کی حالت بہتر بنانے کے لیے سخت جدوجہد کررہے ہیں۔

وڈیو رپورٹ سننے کے لیے کلک کیجئیے:



پاکستان کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس مین کیتھ ایلی سن نے کہا کہ پاکستان میں کبھی جمہوریت رہی، کبھی ڈکٹیٹر اقتدار پر قابض رہے اور کبھی کرپشن کا راج رہا۔ لیکن پاکستانی قوم رکی نہیں اور اس نے اپنے معاشرے کی خرابیاں دور کرنے کی کوششیں مسلسل جاری رکھیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی امریکہ کی ڈرون پالیسی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ امریکی عوام ان کی آواز سنیں اور ڈورن حملے بند کرانے کے لیے ان کا ساتھ دیں۔

افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کانگریس مین کیتھ ایلی سن کا کہناتھا کہ 2014ء میں امریکی لڑاکا فوجیں افغانستان سے وطن لوٹ جائیں گی۔ لیکن، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم افغانستان چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ہم افغانستان سے اپنے تعلقات برقرار رکھیں گے، جس کی بنیاد دوستی اور باہمی مفادات پر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بالآخر افغانستان کو اپنی سیکیورٹی کی ذمہ داری اپنے ہی کندھوں پر اٹھانی ہے، کیونکہ وہ ایک آزاد اور خودمختار قوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ افغانستان میں تعلیم، صحت، معیشت اور دیگر شعبوں کو کیسے ترقی دی جائے اور لوگوں کے باہمی تعلق کو کیسے بڑھایا جائے۔

کانگریس مین کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ افغانستان سے فوجی واپسی کے موقع پر انہیں پاکستان اور افغانستان کے دورے کا موقع ملے اور وہ امریکہ کے ساتھ ان ممالک کے دوستانہ تعلقات کے فروغ میں کوئی کردار ادا کرسکیں۔

وائس آف امریکہ کے پروگرام ’کیفے ڈی سی‘ میں اردو سروس کے چیف فیض رحمٰن کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کانگریس مین کیتھ ایلی سن نے اسلامی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم نے اپنے مشن کا آغاز انصاف کی سربلندی، مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے، صرف ایک خداکی عبادت کرنے اور ڈکٹیٹروں اور جابروں کے سامنے نہ جھکنے کے راہنما اصولوں کے ساتھ کیا۔ انہوں نے رنگ ونسل کی تفریق مٹا دی اور ایک حبشی غلام حضرت بلال کو اذان دینے کی فضیلت سے سرفراز کیا۔ مسٹرایلی سن نے کہا کہ اپنی روزمرہ زندگی میں وہ اسلامی اقدار کو اپنے پیش نظر رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے لیے انسان اہم ہے اس کا لباس نہیں۔ کردار اہم ہے، اس کا نام نہیں ۔میرے لیے اہمیت اس میں نہیں کہ آپ خود کو کس طرح لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں بلکہ اس میں ہے کہ آپ کسی کی مشکل میں اس کی کس طرح مدد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک کانگریس مین کی ذمہ داری ایسے قانون بنانا ہے جن سے لوگوں کی مشکلات حل کرنے اور ملک کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکے۔ اور یہ کہ انہوں نے ایک اچھا کانگریس مین بننے کے لیے بڑی محنت کی ہے۔ اور یہ سیکھاہے کہ انسان چاہے جہاں بھی ہو، جس شعبے میں بھی ہو، اسے دوسروں کی مشکل میں کام آنے اور آسانیاں پیدا کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

کانگریس مین ایلی سن دنیاکے کئی ممالک کا دورہ کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا امیر اور غریب میں بٹی ہوئی ہے۔ غربت اس لیے ہے کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سب کچھ ان کے لیے ہے۔ یہی سوچ بھوک اور قحط لاتی ہے۔ اگر ہمیں بھوک اور غربت کا خاتمہ کرنا ہے تو اس سوچ کے حصار سے نکلنا ہوگا۔

کانگریس مین ایلی سن نے 19 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا۔ اب وہ پچاس برس کے ہوچکے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اسلام سیکھنے کا درس دیتا ہے۔ میں اس عمل سے گذر رہاہوں۔

وہ کہتے ہیں کہ میں ایک عملی مسلمان ہوں اور اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گذارنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسلام مذہب، عقیدے اور رنگ ونسل کے امتیاز کے بغیر سب کے ساتھ برابری اور انصاف کا درس دیتا ہے۔ جس پر عمل کرتے ہوئے میں اپنے حلقے کے تمام لوگوں کے مسائل بلاتفریق حل کرنے پر بھرپور توجہ دیتا ہوں۔ ان کا کہناہے کہ یہ ان پر لوگوں کے اعتماد کا اظہار ہے وہ مسلسل چوتھی بار کانگریس کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG