رسائی کے لنکس

بھارتی جوہری پروگرام کی کنجی پاکستا ن کے پاس ہے: مائیکل کرپان


پاکستان کی جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت سے متعلق رپورٹ جاری کرنے والے ایک امریکی تھنک ٹینک سٹمسن سینٹر کے شریک بانی اور رپورٹ کے مصنف مائیکل کرپان کے انٹرویو کے اقتباسات

]پاکستان کے جوہری پروگرام پر مغرب میں گاہے گاہے سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔ اور یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان انتہائی تیزی سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافہ کررہا ہے۔ حالیہ دنوں میں یہ دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ اس وقت پاکستان کے جوہری اسلحہ خانہ کا حجم اپنے پڑوسی ملک بھارت سے زیادہ ہے اور اس کے پاس 100 سے زیادہ جوہری ہتھیار موجود ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کی صورت حال اور جنگوں کی سابقہ تاریخ کے پیش نظر ان خدشات کا اظہار بھی کیا جاتا ہے کہ کوئی چھوٹا سا واقعہ یا غلط فہمی دونوں ملکوں کے درمیان تباہ کن اور مہلک جوہری جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان کی جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت پر منظر عام پر آنے والی خبروں کا ماخذ ایک امریکی تھنک ٹینک سٹمسن سینیٹر ’Stimson Center​ ‘ کی رپورٹ ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان کی جوہری صلاحیت کا تخمینہ پیش کرتے ہوئے اسے کچھ مشورے دیے گئے ہیں۔ وائس آف امریکہ اردو سروس کے سربراہ فیض رحمٰن نے ٹیلی ویژن شو کیفے ڈی سی کے لیے سٹمس سینٹر کے شریک بانی اور رپورٹ کے مصنف مائیکل کرپانا تفصیلی انٹرویو کیا۔ ہم اس وقت ان کے انٹرویو کے کچھ حصے آپ کی دلچسپی کے لیے پیش کر رہے ہیں۔ (ادارہ)[

پاکستان کے جوہری پروگرام پر رپورٹ کے مقاصد

’پاکستان کے جوہری پروگرام پر یہ رپورٹ لکھنے کا میرا مقصد یہ تھا کہ میں وہاں کے اپنے دوستوں کو یہ کہوں کو وہ اپنے جوہری پرو گرام پر، اس کے مختلف پہلوؤں پر ایک بار پھر نظر ڈال کر یہ دیکھیں کہ یہ پروگرام ان کے ملک کے مستقبل اور سیاست پر کس طرح پورا اترتا ہے۔ پاکستان کا جوہری پروگرام کامیابی کی ایک داستان ہے۔ پاکستان نے دنیا بھر کے ہر قسم کے دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے جوہری قوت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس وقت پاکستان کے پاس معقول تعداد میں جوہری ہتھیار موجود ہیں جن کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 100 سے زیادہ ہے۔ اور اس کے پاس ایسا ڈھانچہ موجود ہے جس سے وہ مزید بہت سے ہتھیار تیار کرسکتا ہے۔

اس رپورٹ میں ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ ہم پاکستان میں اپنے دوستوں سے یہ کہیں کہ ٹھیک ہے آپ نے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔اب آپ کو یہ سوچنا چاہیئے کہ جوہری ہتھیار ہمیں کیا صلہ دے سکتے ہیں۔اور ان ہتھیاروں سے ہمارے لیے کیا کچھ ممکن ہوسکتا ہے۔ کیا ان کے ذریعے ہم ان ملکوں کے کلب میں اپنے لیے جگہ حاصل کرسکتے ہیں، جن کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے‘۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخطوں کا معاملہ

’سی ٹی بی ٹی پر دستخطوں کے بارے میں پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ ہم اس معاہدے پر بھارت کے بعد دستخط کریں گے۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ دستخطوں کا فیصلہ بھارت کرے گا اور پھر ہم اس کے ساتھ شامل ہوجائیں گے۔

’ہم نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں کہا کہ وہ ضرور دستخط کریں بلکہ انہیں یہ مشورہ دیا ہے کہ آپ ان پہلوؤں پر غور کریں۔ ہمیں معلوم ہے کہ پاکستان کے لیے یہ معاملات بہت دشوار ہیں۔ میں نے اپنی رپورٹ میں انہیں سی ٹی بی ٹی پر دستخطوں کا مشورہ اس لیے دیا ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں نے 1998 میں اپنے ہتھیاروں کو ٹیسٹ کیا تھا۔ ان 17 برسوں کے دوران کوئی ایسا اشارہ سامنے نہیں آیا کہ وہ اپنے ہتھیاروں کو دوبارہ ٹیسٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

’اس لیے ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ پاکستان کی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے کہ وہ بھارت کے لیے جوہری ہتھیاروں کے دوبارہ ٹیسٹ کا راستہ روک دے۔ اس میں پاکستان کا مفاد یہ ہے کہ ابھی بھارت جوہری اسلحے کے میدان میں اس سے کافی پیچھے ہے اور اسے اس حوالے سے کافی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ اگر پاکستان اپنے جوہری ہتھیاروں کو دوبارہ ٹیسٹ نہیں کرتا تو وہ زیادہ فائدے میں رہتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف بھارت کے لیے جوہری تجربے کرنا مشکل ہوجائے گا، بلکہ پاکستان کو اس کا فائدہ پہنچے گا۔

’پاکستان اور بھارت دونوں نیوکلیئر سپلائر گروپ کے ساتھ میز پر بیھٹنا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حوالے سے پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے امکانات زیادہ ہیں۔کیونکہ اس کے پاس ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ جب کہ پاکستان یہ نہیں چاہتا کہ بھارت اس کے بغیر اس گروپ کے ساتھ بیٹھے۔

’ہم نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کے لیے ایک زیادہ فعال سفارت کاری تجویز کی ہے اور وہ یہ ہے کہ بھارت کو ایک ایسی صورت حال کی جانب دھکیلا جائے کہ وہ پاکستان کی پیروی کرنے پر مجبور ہوجائے۔ ایسا کرنے سے پاکستان نیوکلیئر سپلائر گروپ میں شامل ہونے کا ایک اصول وضع کر سکتا ہے۔ یعنی اگر آپ اس گروپ کے رکن بننا چاہتے ہیں تو آپ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کریں۔ ہم نے یہ پہلو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ یہ قدم اٹھانا پاکستان کے لیے کتنا مشکل ہوسکتا ہے، اپنی رپورٹ میں دو انتہائ اہم شرائط تجویز کیں ہیں۔‘

جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے پر دستخطوں سے منسلک تجاویز

پہلی تجویز

’ہماری پہلی تجویز یہ ہے کہ اگر پاکستان مناسب سمجھے تو وہ معاہدے پر دستخط کردے۔ لیکن، اس کی توثیق نہ کرے۔ اور وہ بھارت کی جانب سے توثیق کا انتظار کرے اور پھر دونوں ملک اپنی اپنی توثیق اکھٹی جمع کرائیں۔اس سے یہ ہوگا کہ پاکستان جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر اکیلا دستخط نہیں کرے گا، بلکہ بھارت بھی اس کے ساتھ شامل ہوگا۔ لیکن، اس سلسلے میں پہل پاکستان کی جانب سے ہوگی۔‘

دوسری تجویز

ہماری جانب سے پیش کی جانے والی دوسری اہم تجویز یہ ہے کہ اگر پاکستانی قیادت جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر توثیق کے بغیر دستخط کرنے کا فیصلہ کرتی ہےتو وہ اپنے عوام سے یہ کہہ سکتی ہے کہ ہم خود کو ایک ذمہ دار جوہری ریاست ثابت کرنے کے لیے یہ انتہائی غیر معمولی قدم اٹھا رہے ہیں۔ لیکن اگر بھارت ہماری تقلید نہیں کرتا اور اگر بھارت جوہری تجربہ کرتا ہے تو ہم معاہدے میں درج اعلیٰ ترین قومی مفاد سے متعلق شق کے تحت اس معاہدے سے الگ ہوجائیں گے۔ آپ اپنے عوام سے یہ وعدہ کرسکتے ہیں کہ اگر بھارت جوہری تجربہ کرتا ہے تو ہم بھی جوہری تجربہ کریں گے۔ پاکستان کا اس وقت بھی یہی موقف ہے کہ بھارت کی جانب سے جوہری تجربے کی صورت میں وہ بھی ایسا ہی کرے گا۔اس لیے ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کو اپنا موقف تبدیل کیے بغیر آپ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کرسکتے ہیں۔ اور اس سے بین الاقوامی برداری میں آپ کے ملک کا تشخص بدل سکتا ہے۔‘

ان تجاویز کو کتنی حمایت حاصل ہے

’ان تجاویز کے حوالے سے ہماری یہاں واشنگٹن میں، اور پاکستان اور بھارت سے بات ہوئی ہے۔میرا نہیں خیال کہ امریکی حکومت اس کی اعلانیہ تائید کرے گی۔ ہو سکتا ہے کہ وہ نجی طور پر ان میں سے کچھ تجاویز کو فائدہ مند سمجھے۔

’میرا نہیں خیال کہ ان تجاویز پر غور کرنا پاکستان کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔ اگر پاکستانی حکام جوہری ہتھیاروں کی کسی مخصوص تعداد پر متفق ہوجاتے ہیں تو وہ اس سلسلے میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یہ آپ کو طے کرنا ہے کہ اپنی جوہری ضروریات کے لیے آپ کو کیا کچھ درکار ہے۔ آپ کو وہی کچھ کریں جس کی آپ کو ضرورت ہے۔ میں اپنے پاکستانی ساتھیوں سے صرف یہ کہہ رہا ہوں وہ اس بارے میں ایک بار پھر سوچیں کہ انہیں کس چیز کی ضرورت ہے۔اور اگر آپ نے وہ کچھ حاصل کرلیا ہے جس کی آپ کو ضرورت ہے تو پھرہم آپ کو یہ تجویز دیتے ہیں کہ ان پہلوؤں پر بھی غور کریں۔ اور ہم انہیں یہ مشورہ بھی دے رہے ہیں کہ وہ ان فنڈز کو دوسرے امور پر صرف کریں۔

’لیکن، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا۔ میں پاکستان کا دوست ہوں اور میں پاکستان کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وہ اپنی سیکیورٹی اور دنیا میں اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے آگے بڑھیں۔ لیکن، ضروری نہیں ہے کہ وہ میری بات مانیں۔ میرا کام انہیں اپنی تجاویز دینا ہے۔‘

تجاویز پر عمل درآمد سے منسلک ضمانتیں

’میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی ملک یہ ضمانت دینے کے لیے تیار ہوگا کہ پاکستان کی جانب سے سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرنے کی صورت میں بھارت بھی ایسا ہی کرے گا۔ آپ اس بات کی ضمانت کے لیے چین سمیت دنیا میں کسی کی بھی جانب نہیں دیکھ سکتے۔ چین اس وقت کہاں تھا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید نوعیت کا بحران تھا اور اعلیٰ پاکستانی عہدے داروں کو بیجنگ جانا پڑا تھا۔ پاکستان کو اپنی ضمانتیں خود مہیا کرنی ہوں گی۔ لیکن، میں آپ کو یہ بتانا چاہوں گا کہ اگر پاکستان سی ٹی بی ٹی پر دستخط کر دیتا ہے اور اس کی توثیق نہیں کرتا، اور بھارت کا انتظار کرتا ہے، اور یہ کہتا ہے کہ اگر بھارت جوہری تجربہ کرے گا، تو ہم بھی کریں گے۔ تو پھر اگر بھارت این ایس جی کی رکنیت حاصل کرنے جاتا ہے تو میں اس چیز کی ضمانت دیتا ہوں کہ اسے رکنیت نہیں ملے گی، تاوقتتکہ وہ معاہدے پر دستخط نہیں کردیتا۔‘

پاکستان کا جوہری ڈاکٹرن

’پاکستان نے اپنے جس جوہری ڈاکٹرن کا اعلان کیا ہوا ہے اس میں بنیادی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان بھارت کی جوہری استعداد کو سامنے رکھ کر اپنی قومی دفاعی ضرورت کے پیش نظر اتنی محدود تعداد میں جوہری ہتھیار رکھیں گے جس کی اسے ضرورت ہے۔ اس ڈاکٹرن کے مطابق پاکستان چھوٹے بڑھے ہتھیاروں کے حوالے سے اسی تناسب سے ہتھیار رکھنا چاہتا ہے جتنے اسے توازن قائم رکھنے کے لیے درکار ہیں۔ دوسرے لفظوں میں گویا بھارت یہ طے کر رہا ہے کہ پاکستان کتنے جوہری ہتھیار رکھے۔

’ہمارے خیال میں کمزور معیشت کے حامل ایک ملک کے لیے یہ کوئی اچھا نظریہ نہیں ہے۔ہم یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو یہ سوچنا چاہیے کہ اسے جوہری ہتھیاروں کی کیا قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ اب تک کے حالات و واقعات کے مطابق جوہری ہتھیار، روایتی محدود جنگوں، پراکسی لڑائیوں اور کسی بھی طرح کے تنازعوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ جوہری ہتھیار رکھنا محض ایک عیاشی ہے۔

’ہم نے پاکستان کو یہ تجویز بھی دی ہے کہ وہ اپنے جوہری مواد کی ضروریات پر نظر ثانی کرے۔ پاکستان کے پاس چار ایسے پلوٹونیم ری ایکٹر ہیں، جن کا مقصد صرف ہتھیار بنانا ہے۔ جب کہ بھارت کےپاس اس نوعیت کا صرف ایک ری ایکٹر ہے۔ پاکستان کو جوہری ہتھیاروں میں بھارت پر سبقت حاصل ہے۔ لیکن بھارت کے پاس جوہری ہتھیاروں کی سطح کی پلوٹونیم تیار کرنے والے بہت سے ری ایکٹرز موجود ہیں۔بھارت کو پرامن شہری مقاصد کے لیے ملنے والے جوہری ری ایکٹروں کا مفاد بھی حاصل ہے۔لیکن مجھےافسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ بھارت انہیں بم بنانے کے لیے استعمال کرسکتا ہے، اگرچہ ایسا کرنے کے لیے اسے اپنی بجلی کی پیداوار کی قربانی دینی ہوگی۔ فی الحال بھارتی حکمران ایسا کرنا نہیں چاہتے۔ پاکستان جس تیزی سےجوہری ہتھیار بنا رہا ہے، اس کے پیش نظر یہ خدشات موجود ہیں کہ بھارت اپنے جوہری ری ایکٹروں کو بجلی کی بجائے بم سازی پر لگادے گا۔ اس لیےہم پاکستان سے یہ کہہ رہے ہیں وہ اس پہلو پر سنجیدگی سے سوچیں کہ انہیں کتنے جوہری مواد کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ بھارت کی معیشت اس سے نو گنا بڑی ہے۔‘

XS
SM
MD
LG