رسائی کے لنکس

سندھ میں دیہی، شہری کی تقسیم نہیں رہی: ذوالفقار ہالیپوٹہ


ذوالفقار ہالیپوٹہ کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کو اس وقت ایک ایسا رہنما چاہیے جو ہماری تمام لسانی اور قومی اکائیوں کی عزت اور حفاظت کرتے ہوئے ہمیں وفاق سے جوڑے اور ہمیں پاکستانی رکھے۔

معروف سندھی دانش ور، محقق اور پاکستان تحریکِ انصاف سندھ کے رہنما ذوالفقار ہالیپوٹہ کا کہنا ہے کہ سندھ میں دیہی اور شہری کی تقسیم تقریباً ختم ہوچکی ہے اور 80 فی صد سندھ کا شمار اب شہری علاقوں میں ہوتا ہے۔

وائس آف امریکہ اردو سروس کے پروگرام 'کیفے ڈی سی' میں میزبان فیض رحمن کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ذوالفقار ہالیپوٹہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں شہری اور دیہی کی تقسیم زیادہ پرانی نہیں اور اس کا آغازپیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسیوں کی وجہ سے ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اندرونِ سندھ اتنی زیادہ اربنائزیشن ہوچکی ہے کہ اب صوبے میں دیہی اور شہری علاقوں کی تقسیم نہیں رہی بلکہ اب یہ تقسیم سندھی اور اردو بولنے والوں کے علاقوں کی صورت میں ڈھل چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اربنائزیشن کے باوجود ماضی کے دیہی سندھ میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے لیکن صوبے کے شہری علاقوں کی صورتِ حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں جہاں بیڈ گورننس کے باعث تعلیم اور صحت کی سہولتیں ناکافی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ذوالفقار ہالیپوٹہ کا کہنا تھا کہ سندھ کی سیاست کئی دہائیوں سے شہری اور دیہی علاقوں کی تقسیم کی بنیاد پر چلی آرہی ہے جس میں زمینی حالات تبدیل ہونے کے باوجود کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کی مین اسٹریم کی دونوں بڑی جماعتیں – پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ – بھی قوم پرستانہ جذبات کو ابھارتی ہیں جس کے باعث صوبے کے عوام میں احساسِ محرومی پروان چڑھتا ہے۔ ان کےبقول تحریکِ انصاف جیسی کسی قومی جماعت کے لیے ان حالات میں سندھ کی سیاست میں جگہ بنانا ایک چیلنج ہے۔

ذوالفقار ہالیپوٹہ کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف پہلی جماعت ہے جس نے سندھ کے اصل مسائل پر بات کی ہے اور یہاں کے سیاسی اسٹیٹس کو کو چیلنج کیا ہے۔ ان کے بقول تحریکِ انصاف نے سندھ میں شہری اور دیہی کی تقسیم ختم کرنے، شہریوں کو باہم جوڑنے، میرٹ کو فوقیت دینے اور اچھی گورننس دینے کے وعدے کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تحریکِ انصاف گو کہ جیت نہیں سکی لیکن شہری اور دیہی دونوں جگہ عوام کی دوسری بڑی پسند بن کر سامنے آئی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف حالیہ تنازع کےدوران بھی سب سے واضح موقف پاکستان تحریکِ انصاف اور عمران خان نے اختیار کیا ہے۔ پی ٹی آئی بالکل واضح ہے کہ ایم کیو ایم کراچی کے سیاسی ماحول میں تشدد متعارف کرانے کی ذمہ دار ہے اور اس نے شہر کی صورتِ حال کو غیر مستحکم کیا ہے۔

ذوالفقار ہالیپوٹہ کا کہنا تھا کہ سندھ کی بدقسمتی یہ ہے کہ صوبے میں ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں انجام نہیں دے رہے۔ ان کے بقول اردو بولنے والوں کو پتا ہے کہ مشکل کے وقت نہ پولیس کام آتی ہے، نہ تھانہ کچہری، اور اسی لیے وہ مشکل کے وقت میں نائن زیرو کا رخ کرتے ہیں۔ ان کےبقول جب ریاست ڈیلیور ہی نہیں کر رہی اور کوئی متبادل بھی موجود نہیں تو اردو بولنے والوں کو مجبوراً ایم کیو ایم کو ہی ووٹ دینا پڑتا ہے۔

ایم کیو ایم کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حالیہ کارروائیوں سے متعلق سوال پر ذوالفقار ہالیپوٹہ کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کو کسی کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں اور یہ فیصلہ صرف عوام ہی کرسکتے ہیں کہ حکومت کس نے کرنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں سندھ کے سیاسی افق پر بالخصوص اور پاکستان کی سیاسی صورتِ حال میں بالعموم کئی تبدیلیاں آئی ہیں اور نوجوانوں کی سیاست میں شرکت بڑھی ہے۔ لیکن ان کے بقول پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی قیادت ابھی تک 70ء کی دہائی کی سوچ کی حامل ہے اور سمجھتی ہے کہ وہ جاگیرداروں کو ملا کر اور پیسہ خرچ کرکے انتخابات جیت سکتی ہے۔

ذوالفقار ہالیپوٹہ کا مزید کہنا تھا کہ سندھ کو اس وقت ایک ایسا رہنما چاہیے جو ہماری تمام لسانی اور قومی اکائیوں کی عزت اور حفاظت کرتے ہوئے ہمیں وفاق سے جوڑے اور ہمیں پاکستانی رکھے۔ ان کے بقول عمران خان یہ کردار بخوبی ادا کرسکتے ہیں۔

مکمل انٹرویو منسلک ویڈیو میں ملاحظہ کیجئے۔

XS
SM
MD
LG