رسائی کے لنکس

امریکی دارالحکومت کی 'جمہوری' جدوجہد، رکنِ کانگریس کی زبانی


واشنگٹن میں آباد لوگوں کو شکایت ہے کہ وہ تمام وفاقی ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن وفاق انہیں ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں وہ حق نہیں دے رہا جو وفاق میں شامل تمام ریاستوں کو حاصل ہے۔

شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہوکہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کو کانگریس میں ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے۔ واشنگٹن کے شہری اپنا یہ حق حاصل کرنے کے لیے ایک عرصے سے مہم چلارہے ہیں جس کی ایک واضح مثال واشنگٹن میں رجسٹرڈ کرائی جانے والی گاڑیوں کی نمبر پلیٹس ہیں جن پر یہ عبارت کندہ ہوتی ہے کہ نمائندگی دیئے بغیر ٹیکس لگانے کا کوئی جواز نہیں۔

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ حقوق کے مطالبے پر مبنی یہ نمبر پلیٹ وہائٹ ہاؤس کی ان گاڑیوں پر بھی لگی ہیں جو صدر براک اوباما کے زیر ِاستعمال ہیں۔

واشنگٹن میں آباد لوگوں کو شکایت ہے کہ وہ تمام وفاقی ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن وفاق انہیں ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں وہ حق نہیں دے رہا جو وفاق میں شامل تمام ریاستوں کو حاصل ہے۔ وہ قانون سازی کے عمل کا حصہ ہیں اور نہ قومی سطح کے فیصلوں میں ان کی آواز شامل ہوتی ہے۔


امریکہ کے جمہوری ڈھانچے میں واشنگٹن ڈی سی کو دوسری ریاستوں کے مساوی مقام حاصل کیوں نہیں ہے اور وہاں کی آبادی کے مطالبوں کو سیاسی حلقے کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی، وائس آف امریکہ اردو سروس کے چیف فیض رحمن نے ٹیلی ویژن شو 'کیفے ڈی سی' میں کانگریس وومن ایلینور ہومز نارٹن سے۔

ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی کانگریس وومن نارٹن کا تعلق واشنگٹن سے ہے اور وہ کانگریس کی واحد ایسی رکن ہیں جن کے پاس ایوان میں ووٹ دینے کا حق نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ امریکہ میں ٹیکسوں کی اونچی شرح کے لحاظ سے واشنگٹن کا نمبر دوسرا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ عراق اور افغانستان میں امریکی پرچم کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والوں میں اس شہر کے لوگ بھی شامل ہیں۔ لیکن دوسری جانب کانگریس کی کسی بھی ووٹنگ کمیٹی میں مجھے ووٹ دینے کا حق نہیں ہے، جب کہ میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کی نمائندہ ہوں۔

کانگریس وومن نارٹن کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ جاننے کے لیے ہمیں 212 سال پہلے ماضی میں جانا پڑے گا جب اس ملک کا آئین بنایا جا رہا تھا۔ اس وقت ہوا یہ تھا کہ دارالحکومت بنانے کے لیے ریاست ورجینیا اور میری لینڈ نے اپنی زمین دی تھی اور یہ طے کیا گیا تھا کہ دارالحکومت کی حدود میں آنے والے علاقوں کے شہریوں کو دس سال تک اپنی اپنی ریاستوں میں ووٹ دینے کا حق حاصل رہے گا۔ اور اس عبوری مدت کے دوران کانگریس دارالحکومت میں رہنے والوں کے حق ِرائے دہی کا فیصلہ کرلے گی۔

لیکن ہوا یہ ہے کہ عبوری مدت ختم ہونے کے بعد دارالحکومت کی حُدودو میں آنے والے علاقوں کی آبادی اپنی سابقہ ریاستوں میں ووٹ دینے کے حق سے محروم ہو گئی اور کانگریس انہیں اپنی نئی رہائشی حیثیت کے تحت ووٹ دینے کے حق پر متفق نہ ہوسکی۔

کانگریس وومن نارٹن کہتی ہیں کہ اس کی وجہ وفاق میں شامل شمالی اور جنوبی ریاستوں کے اختلافات اور واشنگٹن کی زیادہ تر آبادی کا نسلی لحاظ سے سیاہ فام ہونا تھا۔

کانگریس وومن نارٹن کا کہنا ہے کہ یہ صورت ِحال تقریباً ایک سو سال تک برقرار رہی اور امریکی دارالحکومت کا انتظام سرکاری عہدے داروں کے ذریعے ایک کالونی کی طرح چلایا جاتا رہا۔ بعد ازاں قانون سازی کرکے واشنگٹن کے عوام کو مقامی سطح کی حکومت قائم کرکے اپنے امور چلانے کا اختیار دے دیا گیا۔ چنانچہ اب وہ لوکل باڈیز کے لیے اپنے نمائندے چنتے ہیں، جن کے پاس محض بلدیہ کی سطح کے اختیار ہیں۔ جب کہ کانگریس میں ابھی تک ان کی کوئی آواز نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن کے عوام کو کانگریس میں ووٹنگ کا حق دینے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ واشنگٹن کو ریاست کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ یہ محض ایک وفاقی علاقہ ہے جب کہ آئین کے تحت ووٹنگ کا حق صرف ریاستوں کو حاصل ہے۔ دوسری جانب دونوں سیاسی پارٹیاں مختلف وجوہات کی بنا پر واشنگٹن کو ریاست کا درجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

امریکہ میں کسی زیرِ انتظام علاقے کے لیے ریاست کا درجہ حاصل کرنا آسان نہیں ہے جس کی واضح مثال الاسکا اور ہوائی ہیں۔ وہاں کے عوام کو یہ حق حاصل کرنے کے لیے پانچ عشروں تک جدوجہد کرنا پڑی تھی۔

کانگریس وومن نارٹن کا کہنا تھا کہ اصل میں یہ ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنز کے درمیان طاقت کے توازن کا معاملہ ہے۔ جب انہیں یہ یقین ہوگیا کہ الاسکا اور ہوائی میں سے ایک پر ڈیموکریٹس اور دوسری پر ری پبلیکنز کا اثر و رسوخ واضح طور پر نمایاں ہے تو وہ ان دونوں کو ریاست کا درجہ دینے پر متفق ہوگئے جب کہ واشنگٹن کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ واشنگٹن طویل جدوجہد کے بعد اب تک صرف یہ حق حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے کہ اس وفاقی علاقے کے عوام صدراتی الیکشن میں ووٹ ڈال سکتے ہیں اور مقامی حکومت کے نمائندے چن سکتے ہیں لیکن ابھی تک کانگریس میں ان کا کوئی ایسا نمائندہ موجود نہیں ہے جسے ان کی خواہش کے مطابق ووٹ دینے کا حق حاصل ہو۔

کانگریس میں اپنی حیثیت کے متعلق کانگریس وومن نارٹن کا کہنا ہے کہ میں ایوان میں جاسکتی ہوں۔ وہاں ہونے والے مباحثوں میں حصہ لے سکتی ہوں۔ کانگریس کے اندر تمام کارروائیوں میں دوسرے ارکان کی طرح اپنا کردار ادا کر سکتی ہوں۔ لیکن قانون سازی کے موقع پر ووٹ نہیں دے سکتی۔

اس سوال کے جواب میں کہ الاسکا اور ہوائی کی مثال سامنے رکھتے ہوئے کیا پورٹیکو یا کوئی اور علاقہ واشنگٹن کے ساتھ سیاسی توازن قائم کرکے دونوں علاقوں کو ریاست کا درجہ دلوانے میں مدد دے سکتا ہے، کانگریس وومن نارٹن کا کہناتھا کہ ایسا ہونا بظاہر مشکل دکھائی دیتا ہے کیونکہ پورٹیکو ریاست بننے کی خواہش نہیں رکھتا کیونکہ اسے کوئی ٹیکس ادا کیے بغیر بہت سے حقوق اور مراعات حاصل ہیں اور ایوان ِنمائندگان میں اس کے ڈیلی گیٹس بھی موجود ہیں۔ جب کہ دوسری جانب واشنگٹن کے عوام کو سالانہ چارارب ڈالر ٹیکسوں کی ادائیگی کے باوجود بھی حقوق حاصل نہیں ہیں۔

کانگریس وومن اور ڈیلی گیٹ نارٹن 12 ویں مرتبہ کانگریس میں واشنگٹن کی نمائندگی کررہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ واشنگٹن کے مطالبے کو صدر کی حمایت بھی حاصل ہے جس کی واضح مثال وہائٹ ہاؤس کی گاڑیوں کی نمبرپلیٹس ہیں۔ لیکن امریکی آئین کے تحت صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے اندر واشنگٹن کے حق کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے اور انہیں توقع ہے کہ آخرکار ایک روز اس شہر کے عوام کو بھی دوسری ریاستوں کے مساوی حقوق حاصل ہو جائیں گے۔

کانگریس وومن ایلینور ہومز نارٹن بھارت اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کے دورے کرچکی ہیں اور افغانستان کی صورت حال میں بھی ان کی گہری دلچسپی ہے۔ افغانستان کے مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی خبروں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی عوام نے وہاں سے دہشت گردی کے خاتمے اور اس ملک کی معیشت بہتر بنانے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ 2014 میں وہاں سے امریکی لڑاکا افواج نکل جائیں گی لیکن ایسے اقدامات کی ضرورت باقی رہے گی جن سے ان مقاصد کو حاصل کیا جاسکے، جن کی خاطر ایک عشرہ پہلے امریکی وہاں گئے تھے۔

اس انٹرویو کی تفصیل کے لیے نیچے دئیے گئے وڈیو لنک پر کلک کیجیئے۔

XS
SM
MD
LG