رسائی کے لنکس

'نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ' اور 'اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی'سے منسلک تحقیق کاروں کی نئی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ شادی شدہ جوڑے جو تھوڑی زیادہ کیفین پیتے ہیں اور حمل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ان کے لیے ابتدائی حمل کے نقصان کا خطرہ زیادہ ہے۔

ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے چائے، کافی اور سافٹ ڈرنکس وغیر میں پائی جانے والی کیفین کو اسقاط حمل کے ساتھ منسلک کیا ہے۔

انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کی ویب سائٹ پر اسی ہفتے شائع ہونے والی تحقیق نے ابتدائی حمل ضائع ہونے اور کیفین والے مشروبات کی کھپت کے درمیان ایک تعلق ظاہر کیا ہے۔

نئی تحقیق میں محققین یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ عورتوں کے حمل ٹھہرنے اور اس کو برقرار رکھنے کی صلاحیت پر کیا چیز اثر انداز ہو سکتی ہے۔

یہ ایک تفصیلی جائزہ ہے جس میں محققین نے کیفین کی زیادہ مقدار کا تعلق اسقاط حمل کے ساتھ بتایا ہےجبکہ نئی تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ مرد جو کھاتے پیتے ہیں اس کا ان کی تولیدی صحت پر اثر تھا۔

'نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ' اور 'اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی' سے منسلک تحقیق کاروں کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ شادی شدہ جوڑے جو تھوڑی زیادہ کیفین پیتے ہیں اور بچہ پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، ان کے لیے ابتدائی مراحل میں حمل ضائع ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور اہم مصنف ڈاکٹر جرمین بک لوئیس کہتی ہیں کہ ''وہاں کیفین کے مشروبات پینے کے ساتھ کچھ ایسا تھا جو اسقاط حمل کے ساتھ منسلک تھا۔''

تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ جب حمل سے پہلے مردوں اور عورتوں نے کیفین والے مشروبات مثلاً سوڈا، انرجی ڈرنک یا کافی کے ایک دن میں تین یا زیادہ کپ پیے تو ان عورتوں میں ابتدائی مرحلے میں حمل ضائع ہونے کا خطرہ دوگنا ہو گیا تھا۔

نتائج سے پتا چلا کہ وہ عورتیں جنھوں نے حمل کے ابتدائی سات ہفتوں کے دوران باقاعدگی سے کیفین کے مشروبات کے ایک دن میں دو یا زیادہ کپ پیے تھے ان کے لیے اسقاط حمل کاخطرہ بڑھا تھا۔

ڈاکٹر لوئیس نے کہا کہ ہمارے نتائج بتاتے ہیں کہ اس کے لیے مرد شریک حیات کی غذائی عادات بھی معنی رکھتی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ حمل سے قبل مردوں کی طرف سے کیفین کی زیادہ کھپت کا اسقاط حمل کے ساتھ اتنا ہی مضبوط تعلق تھا جتنا کہ عورتوں کے لیے تھا۔

تاہم محقق لوئیس نے کہا کہ یہ اچھی خبر ہے کہ ملٹی وٹامن کی گولیاں واقعی مدد کرتی ہیں اور ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس نے واقعی خطرے میں کمی کی تھی اور وہ عورتیں جنھوں نےحمل سے پہلے یا دوران حمل ملٹی وٹامنز کھائی تھیں، ان میں حمل ضائع ہونے کا خطرہ 50 فیصد کم تھا۔

اس مطالعے کے لیے تحقیق کاروں نے ایک طویل المعیاد مطالعے کے اعدادوشمار کا استعمال کیا ہے جس میں امریکی ریاست ٹیکساس اور مشی گن سے تعلق رکھنے والے 344 شادی شدہ جوڑے شریک ہوئے تھے، جو بچہ پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے تھے۔

شرکاء نے محققین کو ان کی روزمرہ کی کیفین کی کھپت اور مچھلی کھانے کی تفصیلات فراہم کی تھیں۔ اس کے علاوہ شرکاء کا باقاعدگی سے وزن معلوم کیا گیا جبکہ ان کے خون، پیشاب اور تھوک کے نمونوں کی بھی جانچ کی گئی۔

تحقیق کے دوران مجموعی طور پر 344 حاملہ عورتوں میں سے 28 فیصد یا 98 عورتوں کا اسقاط ہو گیا تھا۔

علاوہ ازیں 35 سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں ابتدائی ہفتوں میں حمل ضائع ہونے کا خطرہ دوگنا تھا۔

تاہم دن میں تین یا زیادہ مرتبہ کیفین کے مشروبات پینے سے ابتدئی مرحلے میں حمل ضائع ہونے کے خطرے میں 74 فیصد اضافہ ہوا تھا اور یہ خطرہ حمل سے قبل اور حاملہ ہونے کے بعد کیفین پینے والی عورتوں دونوں کے لیے موجود تھا۔

ڈاکٹر لوئیس نے کہا کہ ''ہمارے نتائج نے جوڑوں کے لیے مفید معلومات فراہم کی ہیں جو حمل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور جو ابتدائی مرحلے میں حمل ضائع ہونے کے خطرے کو کم کرنا چاہتے ہیں۔''

XS
SM
MD
LG