رسائی کے لنکس

خونریز جھڑپوں کے بعد فوجی حکمرانوں نے قاہرہ میں وزارت دفاع کے ارد گرد کرفیو نافذ کر دیا ہے

مصر میں فوجی حکمرانوں نے خونریز جھڑپوں کے بعد دارالحکومت قاہرہ میں وزارت دفاع کے ارد گرد کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

مظاہرین ملک میں فوجی اقتدار کے فوری خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے کہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک اور تین سو زخمی ہو گئے۔

جمعہ کو ہونے والے مظاہروں میں شریک افراد کو منتشر کرنے کے لیے سرکاری فورسز نے ان پر پانی پھینکا اور آنسو گیس کے گولے استعمال کیے۔ لیکن اس کے باوجود رات دیر گئے تھے جھڑپوں کو سلسلہ جاری رہا۔

دارالحکومت میں ہونے والے ان مظاہروں کے بعد اب تک 170 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

قاہرہ میں ہنگامہ آرائی اور مظاہروں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا جب صدارتی انتخابات سے قبل اسلامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے چوٹی کے دو امیدواروں نے احتجاج کرتے ہوئے اپنی انتخابی مہم منسوخ کردی تھی۔

مصری وزارت دفاع کے نزدیک خیمہ زن مظاہرین میں بیشتر تعداد ایسے افراد کی تھی جن کا تعلق اسلامی جماعتوں سے ہے اور وہ فوج کی حکمرانی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مصر کے صدارتی انتخابات 23 اور 24 مئی کو ہونے والے ہیں اور برسراقتدار فوجی حکمران یہ کہتے آئے ہیں کہ انتخابی عملی منصفانہ ہو گا۔

XS
SM
MD
LG