رسائی کے لنکس

کیلیفورنیا: جنگل میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوششں میں پیش رفت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

حکام نے کہا کہ فوری طور پر یہ نہیں معلوم کہ اب تک کتنے گھر جل چکے ہیں تاہم انھوں نے متنبہ کیا کہ یہ بہت بڑی تعداد میں ہوں گے۔

امریکی کی مغربی ریاست کیلیفورنیا میں جنگل میں لگی آگ پر قابو پانے میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ منگل کو بڑھکنے والی اس آگ کے وجہ سے بارہ ہزار ہیکٹرز کا رقبہ متاثر ہوا۔

حکام نے لاس اینجلس اور لاس ویگاس کو ملانے والی بڑی شاہراہ کے ایک بڑے حصے کو کھول دیا گیا ہے جسے قبل ازیں آگ کے پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر بند کر دیا گیا تھا۔

حکام نے کہا کہ فوری طور پر یہ نہیں معلوم کہ اب تک کتنے گھر جل چکے ہیں تاہم انھوں نے متنبہ کیا کہ یہ بہت بڑی تعداد میں ہوں گے۔

سان برنارڈینو کاؤنٹی کے آگ بجھانے والے محکمے کے سربراہ مار ہارٹ وگ نے کہا کہ "یہ بہت شدید تھی، یہ تیزی سے پھیلی ہے۔ یہ اتنی شدت سے اثر انداز ہوئی جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی ہے"۔

" بہت سارے خاندان ایسے ہوں گے جب وہ واپس گھروں میں آئیں گے تو وہاں کچھ بھی موجود نہیں ہو گا "۔

اس آگ نے سان برنارڈینو شہر کے شمال میں ایک پہاڑی علاقے کو متاثر کیا ہے اور جھاڑیوں کے جلنے کی وجہ سے سفید دھواں پھیل گیا۔ آگ بجھانے کے لیے 1500 سے زائد کارکن مصروف عمل ہیں جب کہ مزید کارکن ان کے امداد کو پہنچ رہے ہیں۔

کیلیفورنیا میں گرمیوں کے مہینوں میں جنگل کی آگ کے بڑھکنے کے اکثر واقعات پیش آتے ہیں تاہم یہ پہلی بار ہوا ہے کہ آگ غیر معمولی طور تیزی سے پھیلی۔

آگ بجھانے والے ادارے کے ترجمان ہنری ہیریرا نے کہا کہ "ہم خشک ثالی کا پانچواں سال دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے گرم موسم، نمی کی نسبتاً کم سطح اور ہوائیں اس آگ کی وجہ بن رہی ہیں۔ جو بہت تیز اور بہت شدید ہے"۔

ابھی تک صرف چار فیصد آگ پر قابو پایا جا سکا ہے اور اس کی مزید پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر حکام نے 82 ہزار افراد کو اپنے گھر بار چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

XS
SM
MD
LG