رسائی کے لنکس

کیلی فورنیا: حملہ آور خاتون کو ویزا پاکستان سے جاری ہوا


تاشفین کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسے "کے ون" ویزا اسلام آباد سے جاری کیا گیا اور وہ غالباً پاکستانی شہری ہی ہے۔

امریکہ میں ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں فائرنگ کے ہلاکت خیز واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حکام مشتبہ حملہ آور میاں بیوی سے متعلق معلومات جمع کرنے کے علاوہ حملے کے محرکات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بدھ کو معذور افراد کی بحالی کے ایک مرکز میں فائرنگ کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہو گئے تھے جب کہ پولیس نے مشتبہ حملہ آور میاں بیوی کا پیچھا کرتے ہوئے مقابلے کے بعد انھیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ان کی شناخت سید رضوان فاروق اور تاشفین ملک کے نام سی کی گئی ہے۔ فاروق کے والد کا تعلق پاکستان سے ہے جب کہ وہ خود امریکہ میں ہی پیدا ہوا اور یہیں پرورش پائی۔

تاشفین کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسے "کے ون" ویزا اسلام آباد سے جاری کیا گیا اور وہ غالباً پاکستانی شہری ہی ہے۔

یہ ویزا منگیتر کے لیے ہوتا ہے اور اس پر امریکہ آنے والوں کو یہاں آ کر شادی کرنا ہوتی ہے اس کی معیاد نوے دن ہوتی ہے۔

جمعرات کو معمول کی پریس بریفنگ میں محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے بتایا کہ وہ فی الوقت یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ تاشفین کو ویزہ کب جاری کیا گیا اور نہ ہی ان کے پاس اس بارے میں معلومات ہیں کہ وہ سعودی عرب کا سفر کر چکی تھیں یا نہیں۔

ادھر سان برنارڈیونو پولیس کے سربراہ جروڈ برگوان نے صحافیوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ رضوان فاروق شکاگو میں پیدا ہوا اور وہ مقامی محکمہ صحت میں بطور انسپکٹر پانچ سال سے کام کر رہا تھا۔

ان کے بقول بدھ کو 28 سالہ فاروق اور اس کی 27 سالہ بیوی تاشفین نے حملے کے دوران 75 گولیاں چلائیں جب کہ ان کے پاس سے 1600 گولیاں برآمد ہوئیں۔

مزید برآں مشتبہ حملہ آوروں کے گھر سے 12 پائپ بم، بم تیار کرنے کا سامان اور ساڑھے چار ہزار سے زائد گولیاں اور ایسا ہی اسلحہ برآمد ہوا۔

رضوان فاروق کا ڈرائیونگ لائسنس

رضوان فاروق کا ڈرائیونگ لائسنس

وفاقی تحقیقاتی ادارے "ایف بی آئی" کے تفتیشی افسر ڈیوڈ بوڈچ کا کہنا ہے کہ فاروق بیرون ملک گیا اور وہاں سے تاشفین کے ساتھ جولائی 2014 میں واپس آیا جس کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھا۔ بعد ازاں ان دونوں نے یہاں شادی کر لی۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں کے کسی مجرمانہ ماضی کا تاحال علم نہیں ہو سکا ہے اور نہ ہی یہ لوگ زیر نگرانی افراد کی فہرست میں شامل تھے۔

لیکن برگوان نے کہا کہ "انھوں نے جو کچھ کیا وہ اس کے لیے پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ جیسے کہ وہ کسی مشن پر تھے۔ جس طرح وہ لیس تھے یہ کسی حد تک اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انھوں نے اس کی منصوبہ بندی کی ۔ میرا نہیں خیال کہ وہ ویسے ہی اٹھ کر گھر گئے، بندوقیں اٹھائیں اور اگلے ہی لمحے واپس پہنچ گئے۔"

بوڈوچ کہتے ہیں کہ "یہ بہت واضح ہے کہ یہاں کوئی مشن ضرور تھا لیکن کیوں تھا یہ ہمیں فی الحال معلوم نہیں۔۔۔۔ ایسا کیا تھا کہ جس نے انھیں فوری طور پر ایسا کرنے پر اکسایا۔"

بتایا جاتا ہے کہ دونوں مشتبہ حملہ آوروں کی ایک چھ ماہ کی بچی تھی جسے انھوں نے حملے کی صبح رشتے داروں کے گھر پر یہ کہہ کر چھوڑا کہ انھوں نے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔

صدر براک اوباما یہ کہہ چکے ہیں کہ اس وقت حملے کی محرکات کے بارے میں قیاس آرائی نہیں کی جاسکتی کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ تھا یا پھر ملازمت سے متعلق کسی جھگڑے کا نتیجہ۔

تاہم انھوں نے کہا کہ اس میں دہشت گردی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

XS
SM
MD
LG