رسائی کے لنکس

اونٹ کے گوشت کوگائے کے گوشت کے مقابلے میں روایتی طور پر کم چربی والا اور کم کولیسٹرول والا سمجھا جاتا ہے لیکن ا س کا استعمال بھی کم ہی کیا جاتا ہے۔ مصر میں آج کل اونٹ کے گوشت کی مانگ میں اضافہ دیکھا جار ہا ہے لیکن گوشت کا ایک اچھا متبادل ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی وجہ ایک ایسی بیماری ہے جس نے مصر میں دیگر مویشیوں کے گوشت کے استعمال کو خطرناک بنا دیا ہے۔

مصر میں اونٹوں کی سب سے بڑی منڈی میں خوب گہما گہمی دیکھی جا رہی ہے۔ مصر ی مویشیوں میں ماؤتھ ٹو فٹ نامی وبائی مرض پھوٹنے کے بعد اونٹوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے ۔ نہ صرف گوشت کے لیے بلکہ دودھ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی۔

ایک خاتون خانہ مونا علی کا کہنا ہے کہ ہم گائے اور دوسرے مویشیوں کے گوشت کے استعمال سے ڈر گئے ہیں۔ ہم نے میڈیا کی مسلسل وارننگ کے بعد اونٹ کا گوشت استعمال شروع کردیا ہے۔ ہم نے تو یہ بھی سنا ہے کہ اس بیماری کا اثر تازہ دودھ پر بھی پڑا ہے۔

مصر میں اونٹ سوڈان، صومالیہ ، ایتھوپیا اور یوگینڈا سے در آمد کیے جاتے ہیں۔ اونٹوں کوقابو میں رکھنے کے لیے ان کی ٹانگوں کو باندھ دیا جاتا ہے اور انھیں چھڑی سے مارا جاتا ہے یہ بات جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے لوگوں اور سیاحوں کے لیے تکلیف دہ ہے۔

جانوروں کے حقوق کے ایک کارکن کلاڈیا اسوری کا کہناہے کہ میں نے اونٹوں کو دیکھا جنھیں پیٹا گیا تھا۔ وہ انھیں چھڑی سے پیٹتےہیں جیسے انھیں پیٹنے میں مزا آرہا ہو۔ اونٹوں کے بھی حقوق ہیں اور اگر وہ مصری لوگوں کے لیے اتنے اہم ہیں تو انھیں زیادہ حقوق ملنے چاہئیں۔

قاہرہ سمیت مصر کے باقی شہروں میں اونٹوں کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس وقت اونٹ کے گوشت کی قیمت 9 ڈالر فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ لیکن اونٹ کےگوشت کے کباب بھی اتنے ہی زیادہ مقبول ہو رہے ہیں۔ یہاں لوگوں کا کہنا ہے کہ بیماری سے پاک گوشت کے لیے یہ قیمت بھی کچھ زیادہ نہیں۔

XS
SM
MD
LG