رسائی کے لنکس

اونٹ دوڑ کے لیے سمگل 1400سو پاکستانی بچے بازیاب

  • حسن محمداشتیاق

اونٹ دوڑ کے لیے سمگل 1400سو پاکستانی بچے بازیاب

اونٹ دوڑ کے لیے سمگل 1400سو پاکستانی بچے بازیاب

2003ء میں بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے بعد دونوں ملکوں نے مشترکہ کارروائیاں کرکے مختلف مقامات سے ان بچوں کو بازیاب کروایا

گذشتہ سات سالوں کے دوران پاکستان سے اونٹ دوڑ میں استعمال کے لیے سمگل ہونے والے تقریباََ 1400 بچوں کو متحدہ عرب امارات سے بازیاب کرا کے وطن واپس لایا گیا ہے جن میں سے پانچ سے دس فیصد بچے ایسے ہیں جو زندگی بھر کے لیے معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔

یہ بات سمندر پار پاکستانیوں کے وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار نے وائس آف امریکہ سے ایک خصوصی انٹرویومیں کہی۔ان کا کہنا تھا کہ 2003ء میں بچوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے بعد دونوں ملکوں نے مشترکہ کارروائیاں کرکے مختلف مقامات سے ان بچوں کو بازیاب کروایا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ وطن واپس لائے گئے بچوں کی بحالی کے لیے متاثرہ خاندانوں میں رقوم کی تقسیم بھی جاری ہے اور اب تک 900 متاثرین میں ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے امداد کی فراہمی متحدہ عرب امارات کی جانب سے کی جارہی ہے اور حکومت نے اس ضمن میں خصوصی بورڈ قائم کر رکھے ہیں جو اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ امداد بروقت مستحقین تک پہنچے۔

معذور ہونے والے بچوں کے بارے میں فاروق ستار نے بتایا کہ ان میں سے بعض جزوی معذوری کا شکار ہیں جو علاج معالجے کے بعد بحال ہو سکتے ہیں لیکن جو بچے اونٹ دوڑ میں استعمال کے دوران گر کر مستقل معذوری کا شکار ہوئے ہیں انھیں ہمیشہ کے لیے ایک safety netمیں رکھنے کی ضرورت ہو گی۔

فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی مشترکہ کوششوں سے اب ملک سے بچوں کی اونٹ دوڑ میں استعمال کے لیے سمگلنگ بہت حد تک کم ہو چکی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ جاری انسانی سمگلنگ کے خلاف ابھی مزید کڑے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔

اس سوال پر کہ اونٹ دوڑ میں استعمال کے لیے بچے سمگل کرنے والے کتنے گروہ یا افراد گرفتار ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ مجرمان کو انصار کے کٹہرے میں لانے کے لیے اگرچہ وزارت داخلہ کی شمولیت سے کارروائیاں کی جارہی ہیں لیکن اس ضمن میں ان کے پاس کوئی اعداد و شمار موجود نہیں۔

پاکستان سے اونٹوں کی دوڑ میں بچوں کی سمگلنگ ایک نہایت سنگین مسئلہ رہا ہے۔ اس جرم میں ملکی ہی نہیں بلکہ غیر ملکی نیٹ ورکس بھی ملوث بتائے جاتے ہیں جو ہاتھ یا تو بچوں کو اغواء کر کے اوریا پھرمفلسی کا شکار خاندانوں کو جھانسہ دے کر بچے سمگلنگ کر کے لے جاتے ہیں۔

متاثرہ بچوں میں سے اکثر یت کا تعلق جنوبی پنجاب اور سندھ کے پسماندہ علاقوں سے ہے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم ”Action Aid“ سے وابستہ شمیلا احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اونٹوں کی دوڑ میں استعمال کے لیے پاکستان سے بچوں کو غیر قانونی طور پر متحدہ عرب امارات میں لے جائے جانے کی ایک وجہ اُن کے بقول غربت اور بے روزگاری ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اونٹوں کی دوڑ میں استعمال کے لیے زیادہ تر بچے جنوبی پنجاب کے اُن اضلاع سے بیر ون ملک لے جائے گئے جہاں
غربت دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ ہے۔

شمیلا کا ماننا ہے کہ گو کہ حکومت کی طرف سے اُٹھائے گئے اقدامات کے باعث اونٹوں کے دوڑ میں استعمال ہونے والے سینکڑوں کم عمر بچوں کومتحدہ عرب امارات سے پاکستان واپس لا یا گیا ہے لیکن اُن کا کہنا ہے کہ واپس آنے والے بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کی بحالی کے لیے اب بھی مستقل بنیادوں پر بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG