رسائی کے لنکس

دہشت گرد حملے کا اسلام سے تعلق نہیں: برطانوی وزیراعظم


برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون

برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا ’’دہشت گردی تمام مذاہب سے زیادہ خود مسلمانوں کی ہلاکت کا باعث بنی ہے اور اس بات سے انکار کرنا حقائق سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔‘‘

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے جنوبی لندن کے علاقے وولچ میں برطانوی فوجی کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاتلوں نے اپنے فعل سے اسلامی تعلیمات کی نفی کی ہے کیونکہ اسلام کسی بھی قسم کی دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔

بدھ کو دو مبینہ شدت پسندوں کے ہاتھوں برطانوی فوجی کے قتل کے بعد جمعرات کو ’کوبرا‘ کی ہنگامی میٹنگ کے اختتام پر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کیمرون نے دہشت گردی کے واقعے کو برطانوی طرز زندگی پر حملے سے تعبیرکرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد برطانوی عوام کو تقسیم کرنے کی سازش میں ناکام ہوئے ہیں۔

’’دہشت گردی تمام مذاہب سے زیادہ خود مسلمانوں کی ہلاکت کا باعث بنی ہے اور اس بات سے انکار کرنا حقائق سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے اس واقعے کو اسلام سے جوڑنا غلط ہوگا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں برطانوی مسلمانوں سمیت تمام عوام ایک صف میں کھڑے ہیں۔

’’دہشت گردی کے ظالمانہ واقعے کی کوئی صفائی پیش نہیں کی جاسکتی اور اس حملے کے ذمہ دار صرف اور صرف وہ دو افراد ہیں جنہوں نے یہ عمل سرانجام دیا۔‘‘

برطانوی فوجی کی ہلاکت کے بعد لندن میں شدت پسند انگلش ڈیفنس لیگ کی جانب سے مظاہرے بھی کیے گئے لیکن لندن کے میئر بورس جونسن نے شدت پسند گروپوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کسی بھی مذہب کو دہشت گردی کے اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرانا بالکل غلط ہوگا۔

برطانوی حکام کے مطابق زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے مبینہ دہشت گردوں میں سے ایک برطانوی شہری مائیکل ایڈی بولنجا کا نسلی تعلق نائیجیریا سے ہے۔ حکام کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی پولیس نے جنوبی لندن کے ایک مکان پر چھاپہ مار کر چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جن سے اس واقعے کے بارے میں تفتیش کی جارہی ہے۔

برطانیہ میں مسلمان تنظیموں اور اراکین پارلیمنٹ نے دہشت گردی کے واقعے میں برطانوی فوجی کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام ایک پرامن مذہب ہے اور ایسے دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

جمعرات کو ’کوبرا‘ کی ہنگامی میٹنگ میں برطانیہ میں تمام فوجی بیرکس کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG