رسائی کے لنکس

کیمرون میں سڑک کی تعمیر پر کام کرنے والے چینی کارکنوں کو مئی میں شمالی خطے وازا سے یرغمال بنایا تھا۔

کیمرون میں حکومت نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ مشتبہ طور پر بوکو حرام کے جنگجوؤں کی طرف سے اغوا کیے گئے 27 افراد بشمول 10 چینی شہریوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق رہا کیے جانے والوں میں کمیرون کے نائب وزیراعظم کی بیوی بھی شامل ہیں۔

صدر پال بیا کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق رہا ہونے والے تمام افراد ہفتہ کی صبح واپس پہنچے اور باحفاظت ہیں۔

کیمرون میں سڑک کی تعمیر پر کام کرنے والے چینی کارکنوں کو مئی میں شمالی خطے وازا سے یرغمال بنایا تھا۔

کمیرون کے نائب وزیراعظم آمادو علی کی بیوی بھی ان 17 مقامی افراد میں شامل تھیں جنہیں جولائی میں جب لگ بھگ 200 مسلح افراد نے ملک کے سرحدی قصبے کولوفاتا پر حملہ کر کے اغوا کر لیا تھا، تاہم اُس وقت نائب وزیراعظم آمادو علی علاقے میں موجود نہیں تھے۔

حملہ آور مقامی افراد بشمول نائب وزیراعظم کے اہلیہ کو مغوی بنانے کے بعد وہاں سے نکلے تاہم جاتے جاتے اُنھوں نے کئی گھروں کو آگ لگا دی اور قمیتی سامان اور گاڑیاں چرا لے گئے۔

اس حملے میں فوج کے مطابق کم از کم پانچ افراد ہلاک بھی ہوئے۔

حملہ آور ایک مقامی مذہبی شخصیت کو بھی اغوا کر کے لے گئے تھے اور اُنھیں بھی ہفتہ کو رہا کیا گیا۔

بوکو حرام لوگوں کے اغواء کی کبھی ذمہ داری قبول نہیں کرتی، لیکن نائیجریا میں موجود اس شدت پسند تنظیم نے پڑوسی ملک کیمرون میں بھی اپنی کارروائیوں کے دائرہ کار کو وسعت دی ہے۔

کمیرون کا کہنا ہے کہ رہائی کے بدلے تاوان ادا نہیں کیا گیا اور ہفتہ کو جاری ہونے والے سرکاری بیان میں رہائی سے متعلق مزید تفصیلات بھی نہیں بتائی گئیں۔

حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں مزید تفصیلات نہیں بتا سکتے۔

XS
SM
MD
LG