رسائی کے لنکس

صوبہ سندھ میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان میں کمی کیلئے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم کی جانب سے سندھ کے نو شہروں میں یہ مہم چلائی جائے گی جس میں عام سطح پر منشیات کے منفی اثرات کے بارے میں آگاہی و شعور کو فروغ دیاجائےگا

کراچی: ​پاکستان کے صوبہ سندھ میں منشیات کے حوالے سے آگاہی دینے اور اس کی روک تھام کی مہم کا آغاز ہوگیا ہے۔

صوبے میں منشیات کے خلاف یہ مہم منشیات کے خلاف کام کرنےوالے بین الاقوامی ادارے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم ۔۔یو این او ڈی سی اور امریکہ کے محکمہٴداخلہ سے منسلک ادارے آئی این ایل ۔۔۔انٹرنیشنل نارکوٹکس نفاذ کے قانون کے اشتراک سے چلائی جائے گی۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم ۔۔۔یو این او ڈی سی کی جانب سے منشیات کے خلاف اس مہم کیلئے صوبہ سندھ کے نو شہروں کو چنا گیا ہے جہاں منشیات کا رجحان سب سے زیادہ بتایا جاتا ہے۔

ان شہروں میں میرپورخاص، حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، شکارپور، بدین، نوابشاہ، جیکب آباد شامل ہیں۔ اس مہم کا مقصد صوبے میں منشیات کے بھیلاؤ کی روک تھام کرنا اور اس سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کیلئے تعلیمی اداروں کے اساتذہ، والدین اور خصوصا نوجوانوں کی توجہ اس جانب مرکوز کرانا ہے کہ وہ منشیات کے منفی اثرات کے بارے میں آگاہ ہوں‘۔

مہم کے باقاعدہ آغاز کا اعلان گورنر ہاؤس میں منعقدہ بین الاقوامی ادارے اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی جانب سے کیا گیا۔

تقریب سے خطاب میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ ’آج صوبہ سندھ میں منشیات سے آگاہی کی مہم کا آغاز اس کی روک تھام کے بارے میں شعور اور اس سے منسلک سماجی، نفسیاتی، اقتصادی اور جسمانی نقصانات کی آگاہی فراہم کرنے کا اولین معاملہ ہے‘۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مہم صوبہ سندھ میں مؤثر اور کامیاب ہوگی جو دوسرے صوبوں کیلئے بھی مثال ثابت ہوگی۔

گورنر سندھ نے کہا کہ منشیات کے حوالے سے آگاہی کا یہ پروگرام سندھ میں پہلا قدم ہے جسے UNODC بیورو آف انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لا انفورسمنٹ افیئرز، یو ایس ڈویژن، نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن وزارت داخلہ پاکستان نے ترتیب دیا ہے۔ گورنرسندھ نے سندھ میں منشیات کے خلاف مہم میں بین الاقوامی اداروں کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں ان اداروں کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والی رقم کا ایک بڑا حصہ منشیات کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے۔ حکومت سندھ قومی ایکشن پلان کے تحت منشیات کی طلب کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ ان مجرموں کے خلاف بھی کارروائی کر رہی ہے۔ ایسے ملزمان کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئی ہیں جو آگے بھی جاری رہیں گی‘۔

اس مہم کے حوالے سے گورنر ہاؤس میں صحافیوں سے خصوصی گفتگو میں یو این او ڈی سی پاکستان کے ترجمان ڈاکٹر منظور نے کہا کہ ’اس مہم کا بنیادی مقصد عوام میں وہ شعور پیدا کرنا ہے کہ منشیات کے منفی اثرات کے بارے میں لوگ جانیں اور نوجوانوں کو ایسا ماحول دیاجائے کہ وہ نشے کی جانب جانے کے بجائے معاشرے کے لئے اچھے کام کریں‘۔

ڈاکٹر منظور نے مزید بتایا کہ ’اس مہم میں دھیان تعلیمی اداروں، اسکولوں کے اساتذہ، بچوں اور معاشرے کے ہر فرد کو شامل کرنا ہے کہ وہ منشیات کی لت سے دور رہیں‘۔

یو این او ی ڈی سی کی جانب سے یہ مہم پاکستان میں کئے گئے سال 2013 کے سروے کے نتائج پر کی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی سروے رہورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان کی آبادی کا چھ فیصد حصہ 6٫7 ملین افراد منشیات کا استعمال کرچکے ہیں، ان میں 4 ملین کے قریب افراد ایسے ہیں جو منشیات کے استعمال سے صحت پر پڑنے والے اسکے منفی اثرات کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار ہرچکے ہیں۔

سروے رپورٹ کے مطابق، صوبہ سندھ منشیات کی ایک شکل چرس استعمال کرنے میں ملک میں دوسرے نمبر پر ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ’سندھ میں نشہ آور اشیاٴ استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد 1.7 ملین ریکارڈ کی گئی، جبکہ 96 ہزار افراد سرنج کے ذریعے نشہ کرتے ہیں۔ سرنج کے ذریعہ نشہ کرنے کی وجہ سے ایچ آئی وی اور خون سے پیدا ہونے والی بیماریاں بھی تشویشناک حد تک پھیل رہی ہیں۔

سروے میں کہا گیا ہے کہ منشیات استعمال کرنے والے افراد کی کل تعداد کا 2 فیصد حصہ 15 سے 18 برس کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

XS
SM
MD
LG