رسائی کے لنکس

کینیڈا: دو مئی کو عام انتخابات

  • لطافت صدیقی

کینیڈا: دو مئی کو عام انتخابات

کینیڈا: دو مئی کو عام انتخابات

کینیڈا میں دو مئی کو عام انتخابات ہو رہے ہیں اور اگر کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہ ہوئی تو حکومت کی تشکیل میں دشواریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

گذشتہ سات سالوں میں کینیڈا میں تین مرتبہ مڈٹرم الیکشن ہو چکے ہیں اور تینوں ہی مرتبہ 308ارکان کے پارلیمان میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے صرف اقلیتی حکومتیں قائم ہو سکی تھیں۔

اب پیر کے دِن یعنی دو مئی کو چوتھی مرتبہ جو انتخابات ہو رہے ہیں اُن کے لیے وزیرِ اعظم اسٹیون ہارپر نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی کنزرویٹو پارٹی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ لیکن، الیکشن کے متوقع نتائج پر جو تازہ ترین سروے شائع ہوئے ہیں اُن میں بتایا گیا ہے کہ ایک مرتبہ پھر معلق پارلیمان ہوگا۔

واضح رہے کہ سنہ 2004ء میں لبرل پارٹی نے اقلیتی حکومت قائم کی تھی اور اُس کے بعد کنزرویٹو پارٹی دو مرتبہ اقلیتی حکومت بنا سکی تھی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ٹوری پارٹی تیسری مرتبہ بھی صرف اقلیتی حکومت بنا سکی تو وزیرِ اعظم اسٹیون ہارپر کا سیاسی مستقبل مشکل میں پڑ سکتا ہے۔

گذشتہ ہفتے اخبار نویسوں نے کئی مرتبہ اسٹیون ہارپر سے یہ سوال پوچھا کہ اگر اُن کی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہ کرسکی تو کیا و ہ پارٹی کی قیادت سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کریں گے؟ اُن کا کہنا تھا کہ ، اُن کی پارٹی اکثریت سے جیت جائے گی۔

دوسری طرف، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ’ ہنگ پارلیمنٹ ‘کی صورت میں ملک کی حزبِ مخالف کی تین جماعتیں یعنی لبرل پارٹی، نیو ڈیموکریٹک پارٹی اور کیوبک کی علیحدگی پسند جماعت بلاک کیونکائز مل کر مخلوط حکومت قائم کرسکتے ہیں۔

وزیرِ اعظم ہارپر نے اِس قسم کی تجویز کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ اگر مخلوط حکومت قائم کی گئی تو اُنھیں شک ہے کہ بائیں بازو کی نیو ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ جیک لیٹن کو وزیرِ اعظم نہ بنا دیا جائے۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کنزرویٹو پارٹی کو ووٹ دیں۔

XS
SM
MD
LG