رسائی کے لنکس

جی -20 کانفرنس ختم، کئی تجاویز کی منظوری

  • لطافت صدیقی

جی ایٹ اور جی-20 کی کانفرنسوں میں کئی اختلافات کے باوجود بحث اور غور فکر کے بعد کئی اہم فیصلے کیے گئے۔جن کا عالمی راہنماؤں نے خیرمقدم کیا ہے اور کینیڈا کے اخبارات اور ٹیلی ویژن پر زیادہ تر تجزیہ نگاروں اور ماہرین نے ان فیصلوں کو اہم قرار دیا ہے۔

یہ دونوں کانفرنسیں کینیڈا میں منعقد ہوئیں اور ان میں عالمی امن اور استحکام قائم کرنے کے لیے بہت سی تجاویز کو منظور کیا گیا۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔

جی ایٹ کے راہنماؤں نے ایران اور شمالی کوریا کے خلاف اقوام متحدہ کی عائد کردہ پابندیوں پر سختی سے عمل کرنے کا عزم کیا۔

جی -20 کی کانفرنس میں ممبر ممالک سے کہا گیا کہ وہ عالمی معیشت کوبہتر بنانے کے لیے2013ء تک اپنے بجٹ خسارے کو کم کریں۔

امریکی صدر براک اوباما نے جی-20 کانفرنس کے دوران کینیڈا کے وزیر اعظم سٹیون ہارپر سے ایک ملاقات میں کہا کہ ان کا ملک معیشت سے متعلق جی-20 کے فیصلوں پر عمل درآمد کرے گا۔

دونوں کانفرنسوں کے اختتام کے موقع پر کینیڈا کے وزیراعظم نے ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ عالمی راہنماؤں نے جی ایٹ اور جی-20 کے فیصلوں کو سراہاہے۔

ان دونوں کانفرنسوں کے موقع پر مخالفین نے مظاہرے بھی کیے ۔جی ایٹ کی کانفرنس کے موقع پر مظاہرین کی تعداد کم تھی اور وہاں کوئی ناخوشگوار واقعہ بھی پیش نہیں آیا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی یہ کانفرنس ایک چھوٹے سے شہر ہنس ویل میں منقعد کی گئی تھی جہاں پولیس کے مظاہرین سے نمٹنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔

جب کہ کینیڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورانٹو میں ہفتے کے دن جب جی -20 کی کانفرنس شروع ہوئی تو وہاں مظاہرین کی تعداد زیادہ تھی اور ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مظاہروں کے دوران کئی مقامات پر حالات قابو سے باہر ہوئے اور مشتعل مظاہرین نے پولیس کی چار گاڑیوں کو نذرآتش کردیا۔

مظاہرین کا کہناتھا کہ امیر ملک ترقی پذیر اور غریب ممالک کی مدد نہیں کرتے۔ کچھ مظاہرین کا کہناتھا کہ کینڈا کی حکومت نے ان کانفرنسوں کے حفاظتی انتظامات پر ایک ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ یہ رقم غریب ترین ممالک کودی جاسکتی تھی۔

XS
SM
MD
LG