رسائی کے لنکس

اعتمادکا ووٹ، کینیڈا کی حکومت کو شکست


اعتمادکا ووٹ، کینیڈا کی حکومت کو شکست

اعتمادکا ووٹ، کینیڈا کی حکومت کو شکست

جمعے کے روز اعتماد کے ووٹ میں ہونے والی ناکامی کے نتیجے میں سات برسوں کے اندر چوتھے انتخابات کی راہ ہموار ہوگئی ہے، جو ممکنہ طور پر دو مئی کومنعقد ہوں گے

کینیڈا کی حزبِ اختلاف کی جماعتوں نےپارلیمان میں اعتماد کے ووٹ میں وزیرِ اعظم اسٹیفن ہارپر کی حکومت کوشکست سے ہم کنار کردیا ہے۔

مسٹر ہارپر کی اقلیتی حکومت پانچ سال سے اقتدار میں تھی۔ قانون سازوں نے موشن کی مخالفت میں 156جب کہ موافقت میں 45ووٹ دیے۔

جمعےکے روز اعتماد سازی میں ہونےوالی ناکامی کےنتیجے میں اب سات برسوں کے اندر چوتھے انتخابات کی راہ ہموار ہوگئی ہے، جو ممکنہ طور پر دو مئی کو ہوں گے۔

اعتماد کے ووٹ کامطالبہ کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا تھا کہ مسٹر ہارپر نے جرائم کے انسداد کے لیے قانون سازی، کارپوریٹ ٹیکس میں مجوزہ کٹوتی اور 65امریکی ساختہ اسٹیلتھ جیٹ فائٹر طیارے خریدنے کے منصوبے کے بارے میں مکمل مالی تفصیلات دینے میں ناکام رہی ہے، جو بات پارلیمان کی ہتک کی مترادف ہے۔

حزبِ مخالف لبرل پارٹی کے سربراہ مائیکل اگناٹف نے کہا ہے کہ پانچ برس کی قدامت پسندوں کی حکمرانی کے بعد، اُن کے بقول اب وقت آگیا ہے کہ یہ کہ دیا جائے کہ’بہت ہوگیا‘۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسی جماعت جو حقائق کو چھپاتی ہو، اُسے عہدے پرفائز رہنے کا کوئی حق نہیں۔

قدامت پسندوں نے الزام لگایا ہے کہ اعتماد سازی کا مطالبہ کرکےمخالفین نے سیاسی اور امتیازی حربے استعمال کیے۔

مسٹر ہارپرنے کہا ہے کہ نئے انتخابات ملک کی معاشی بحالی کےلیےنقصان دہ ثابت ہوں گے، حالانکہ دیگرکئی صنعتی ممالک کی بنسبت کینیڈا وہ واحد ملک ہےجِس نےعالمی کسادبازاری سےتیزی سے بازیابی حاصل کی۔

XS
SM
MD
LG