رسائی کے لنکس

کینیڈا ٹرین حادثہ، درجنوں افراد تاحال لاپتہ


جائے حادثہ کا منظر

جائے حادثہ کا منظر

حکام کے مطابق ٹرین کی 73 میں سے 72 بوگیوں میں تیل لدا ہوا تھا جس کے باعث حادثے کے بعد خوفناک آگ بھڑک اٹھی تھی

کینیڈا میں ہفتے کو ایک تیل بردار ٹرین کو پیش آنے والے حادثے کے بعد علاقے میں امدادی کاروائیاں تاحال جاری ہیں جب کہ اب بھی 40 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔

حکام کے مطابق ہفتے کو علی الصباح پیش آنے والے حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہوگئی ہے جب کہ لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

حادثہ اس وقت پیش آیا تھا جب خود بخود چل پڑنے والی ایک تیل بردار ٹرین صوبے کیوبک کے قصبے لاک میگانٹک کے وسط میں الٹ گئی تھی اور اس میں آگ لگ گئی تھی۔

اتوار کو کینیڈا کے وزیرِ اعظم اسٹیفن ہارپر ٹرین حادثے سے متاثر ہونے والے قصبے کے دورے کے بعد کہا تھا کہ حادثے سے بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے۔

جائے حادثہ کے دورے کے بعد صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیرِاعظم ہارپر نے کہا تھا کہ قصبہ جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہا ہے اور قصبے کے مرکزی علاقے کا ایک بڑا حصہ تباہ ہوچکا ہے۔

ٹرین کی منتظم ریل کمپنی کے مطابق گاڑی کے معاون نے اپنی شفٹ کے اختتام پر اسے جمعے کی رات لاک میگانٹک نامی قصبے کے باہر کھڑا کر دیا تھا۔

ریلوے لائن کی منتظم کمپنی کے مطابق گوکہ کنڈکٹر نے گاڑی کی بریکس صحیح طور پر لگا دی تھیں لیکن ٹرین کسی وجہ سے خود بخود چل پڑی اور رفتار پکڑنے کے بعد ایک موڑ پر الٹ گئی۔

حکام کے مطابق ٹرین کی 73 میں سے 72 بوگیوں میں تیل لدا ہوا تھا جس کے باعث حادثے کے بعد خوفناک آگ بھڑک اٹھی تھی جس پر کینیڈا اور پڑوسی ملک امریکہ سے طلب کیے جانے والے امدادی اہلکار کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد قابو پاسکے تھے۔

حادثے کے بعد خطے کے ممالک میں تیل کی بذریعہ ریل ترسیل کے محفوظ ہونے کے معاملے پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔

خیال رہے کہ کینیڈا میں قائم آئل ریفائنریوں سے تیل کی ایک بڑی مقدار پائپ لائنوں کے ذریعے امریکی ریاست نارتھ ڈکوٹا منتقل کی جاتی ہے۔ لیکن پائپ لائنوں کی گنجائش محدود ہونے کے باعث حالیہ عرصے میں دونوں ممالک کی کئی ریل کمپنیاں ٹرینوں کے ذریعے بڑی مقدار میں تیل کی نقل و حمل کر رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ٹرینوں کے ذریعے تیل کی منتقلی پائپ لائنوں کے مقابلے میں بہت مہنگی پڑتی ہے لیکن شمالی امریکہ میں تیل کی پیداوار میں حالیہ اضافے اور پائپ لائنوں کی محدود گنجائش کے باعث کئی پیداواری کمپنیاں تیل کی ریفائنریوں کو منتقلی کے لیے ٹرینوں پر انحصار کرنے پہ مجبور ہیں۔
XS
SM
MD
LG