رسائی کے لنکس

جینیاتی وائرس سے سرطان کا علاج


جینیاتی وائرس سے سرطان کا علاج

جینیاتی وائرس سے سرطان کا علاج

کینیڈا کے سائنس دانوں نے جینیاتی طورپر تبدیل شدہ وائرس کوصحت مند انسانی خلیوں کو نقصان پہنچائے بغیر مخصوص قسم کے سرطان کے خلیوں کو ہلاک کرنے کے لیے کامیابی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔

سرطان کے خلاف وائرس کے استعمال کے سلسلے میں سائنس دان کئی عشروں سے دلچسپی لے رہے ہیں۔ ان کی اس دلچسپی میں حالیہ برسوں میں جینیاتی انجنیئرنگ کے شعبے میں ہونے والی نمایاں پیش رفت سے اضافہ ہوا ہے۔ جینیاتی شعبے کی ترقی سے مخصوص انداز کے ایسے وائرس بنانا ممکن ہوگیا ہے جو کینسر کی گٹھلی کے خلاف لڑ سکیں۔

نئے تجرباتی وائرس کی پانچ خوراکیں خون کی رگوں میں انجکشن کے ذریعے 23 مریضوں کو دی گئیں، جن میں سرطان مرض کافی پھیل چکاتھا۔ سائنس دانوں اور یونیورسٹی آف اوٹاوا کے اوٹاوا ہاسپیٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور ایک پرائیویٹ کمپنی ’جینرکس ‘ کا کہناہے کہ لیبارٹری میں تیارکردہ وائرس جے ایکس 954 کی دو خوراکوں نے آٹھ میں سے سات مریضوں کے سرطان کی گٹھلی میں پھیلنا شروع کردیا لیکن انہوں نے صحت مند خلیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔

چھ مریضوں کی سرطان کی گٹھلیوں کے حجم میں نمایاں کمی ہوئی۔ کسی بھی مریض میں کسی طرح کا کوئی سائیڈ ایفکٹ نہیں دیکھاگیاماسوائے معمولی سے درمیانی نوعیت کے فلو کے جس کی علامتیں زیادہ سے زیادہ ایک روز تک برقرار رہیں۔

سائنس دانوں کا کہناہے کہ جے ایکس 954 وائرس کینسر کے دوسرے طریقہ علاج سے مختلف ہے کیونکہ وہ کئی طریقوں سے سرطان کی گٹھلی پر حملہ کرتا ہے۔ کینسر کی مختلف اقسام کو سامنے رکھتے ہوئے یہ وائرس مختلف انداز میں تیار کیا جاسکتا ہے اور اس کے سائیڈ ایفکٹس بہت معمولی ہیں۔

کینیڈا کے سائنس دانوں کا کہناہے کہ اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

یہ تحقیق جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG