رسائی کے لنکس

کراچی: دھماکوں میں جاں بحق افراد کی یاد میں شمعیں روشن، مقدمہ درج


کراچی میں دھماکے کے بعد کا منظر

کراچی میں دھماکے کے بعد کا منظر

بم ڈسپوزل اسکواڈ کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے 10 گز کے فاصلے سے 2 موٹر سائیکلیں کھڑی کیں تھیں جن میں بارودی مواد سمیت بال بیئرننگ نصب کئے گئے تھے۔

کراچی میں گزشتہ روز ہونے والے دو بم دھماکوں میں جاں بحق افراد کی یاد میں ہفتے کی رات شمعیں روشن کی گئیں۔ انچولی کے علاقے میں ہونے والے دھماکوں میں جاں بحق افراد کی یاد میں شمعیں روشن کرنے کیلئے شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

انسداد ِدہشتگردی ایکٹ کے تحت کراچی کے علاقے انچولی مں ہونے والے دھماکوں کا مقدمہ سمن آباد تھانے میں سرکار کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔ جائے دھماکے سے تحقیقات کا عمل آج بھی جاری رہا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے 10 گز کے فاصلے سے 2 موٹر سائیکلیں کھڑی کیں تھیں جن میں بارودی مواد سمیت بال بیئرننگ نصب کئے گئے تھے۔

تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ، ’کراچی کے دھماکوں میں استعمال ہونے والی دونوں موٹرسائیکلوں کے چھینے جانے یا چوری کی واردات کا کسی قسم کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ رجسٹریشن نمبر حاصل کر لئے گئے ہیں دونوں موٹر سائیکلیں کئی بار فروخت بھی ہو چکی ہیں‘۔

مجلس وحدت المسلمین کی جانب سے ہفتے کے روز انچولی دھماکوں کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مجلس وحدت المسلمین کے مرکزی ترجمان علامہ حسن ظفر نقوی کا کہنا ہے کہ، ’انچولی میں دھماکا دہشتگردوں کی سازش اور بھائی کو بھائی سے لڑانے کوشش کی گئی ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ، ’دہشت گردوں کو بعض سیاسی اور مذہبی جماعتیں چھتری فراہم کررہی ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام جماعتیں دہشتگردوں کی کھل کر مخالفت اور مذمت کریں‘۔

گزشتہ روز کراچی دھماکے میں جاں بحق ہونے والے 2 افراد کی نماز ِجنازہ ادا کر دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ جمعہ کی رات کراچی کے علاقے انچولی میں ہونے والے یکے بعد دیگرے دو دھماکوں میں 7 افراد جاں بحق جبکہ 30 کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔
XS
SM
MD
LG