رسائی کے لنکس

انسانی گوشت کھانے والے ملزمان پولیس ریمانڈ میں


عارف اور فرمان کو پہلی مرتبہ سنہ 2011 میں مردہ انسانوں کا گوشت کھانے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن، یہ سزا کارگر ثابت نہ ہوئی۔ پیر کو ایک مرتبہ پھر ان کے گھر سے ایک بچے کا سر ملا، جس کے بعد پولیس نے دونوں کو گرفتار کرلیا

کراچی ... پاکستان میں انسانی گوشت کھانے والے دو بھائیوں کی خبر نے ایک مرتبہ پھر سب کو چونکا دیا ہے۔ اگرچہ عارف اور فرمان، دونوں کو پیر کو ہی پنجاب کے علاقے بھکر سے گرفتار کرلیا گیا تھا، تاہم منگل کو عدالت نے انہیں مزید 7روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

عارف اور فرمان کو پہلی مرتبہ سنہ 2011 میں مردہ انسانوں کا گوشت کھانے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن، یہ سزا کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ پیر کو ایک مرتبہ پھر ان کے گھر سے ایک بچے کا سر ملا تھا، جس کے بعد، پولیس نے دونوں کو گرفتار کرلیا۔

گرفتاری کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر جگہ پھیل گئی، جس کے بعد بعض مشتعل افراد نے اس کے گھر پر دھاوا بول دیا اور بری طرح توڑ پھوڑ کی۔ دونوں، بھکر کے علاقے کہاوڑ کلاں کے رہنے والے ہیں۔ مشتعل افراد نے واقعے کے دوسری مرتبہ رونما ہونے کا ذمے دار پولیس کو ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس درست طریقے سے کیس ڈیل کرتی تو واقعہ دوبارہ کبھی نہ ہوتا۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ملزمان کو منگل کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سرگودھا کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ اسے ملزمان سے مزید تفتیش کی غرض سے سات روز کا وقت چاہئے۔ عدالت نے پولیس کا موٴقف تسلیم کرتے ہوئے ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

فرمان اور عارف کے بارے میں علاقہ مکینوں نے سنہ 2011 میں شکایت درج کرائی تھی کہ وہ قبروں سے مردے نکال کر انہیں کھا جاتے ہیں۔ انہوں نے پولیس کو وہ قبریں بھی دکھائی تھیں جہاں سے یہ دونوں بھائی پراسرار طور پر مردے نکال کر گھر لے آتے تھے اور ان کا سالن بناکر کھاتے تھے۔ ان واقعات کی علاقہ مکینوں نے پولیس سے پہلے از خود تفتیش کی تھی اور یقین ہوجانے پر پولیس کو اطلاع دی۔

پولیس کو فرمان اور عارف کے گھر سے ایک عورت کی نصف لاش بھی ملی تھی جسے کچھ روز پہلے ہی قریبی قبرستان میں دفنایا گیا تھا، اور جس کے آدھے جسم کا سالن بنا کر یہ دونوں بھائی کھا چکے تھے۔ پولیس نے انسانی گوشت کا سالن بھی اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

رہائی کی وجہ ۔۔۔؟

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملکی آئین میں اس جرم کے خلاف کوئی قانون موجود نہیں۔ البتہ، اس جرم سے متعلق دیگر دفعات کے تحت دونوں بھائیوں کو صرف ایک سال کی ہی سزا ہو سکی تھی، جو اب سے چھ ماہ پہلے پوری ہو چکی تھی۔ تاہم، پیر کو ان کے گھر سے ایک مرتبہ پھر انسانی گوشت کی بو محسوس ہوئی تو علاقہ مکینوں نے پولیس کو خبر کردی۔

پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے فرمان اور عارف کے گھر پر چھاپا مارا تو اسے ایک بچے کا سر برآمد ہوا، جبکہ جسم کا باقی حصہ وہ پہلے ہی ہضم کر چکے تھے۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے، اے پی پی کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او بھکر سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
XS
SM
MD
LG