رسائی کے لنکس

داعش سے وابستہ گرفتار امریکی جنگجو کے 'متضاد بیانات'


جمال قومی کا انٹرویو کردستان 24 ٹیلی ویژن پر نشر ہوا

جمال قومی کا انٹرویو کردستان 24 ٹیلی ویژن پر نشر ہوا

حکام فی الوقت بہت احتیاط سے سارے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس سے اٹھنے والے سوالات پر غور کر رہے ہیں۔

انٹیلی جنس حکام رواں ہفتے عراق میں خود کو کرد فورسز کے حوالے کرنے والے داعش سے منسلک امریکی شہری کے بیانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ محمد جمال قوی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ داعش کے زیر تسلط علاقے موصل سے فرار ہوا تھا۔ اسے عراق میں سنجار کے علاقے میں کرد فورسز نے تحویل میں لیا۔

جمال کا ایک انٹرویو 'کردستان 24 ٹیلی ویژن' پر نشر کیا گیا جس میں وہ خاصے اطمینان کے ساتھ بات کرتا نظر آیا اور دوران گفتگو سگریٹ کے کش بھی لگاتا رہا جب کہ اس کے بقول داعش کی نام نہاد خلافت میں سگریٹ نوشی ممنوع ہے۔

اس نے بتایا کہ "میں نے ایک لڑکی کے ساتھ موصل جانے کا غلط فیصلہ کیا، میں درست انداز میں نہیں سوچ رہا تھا۔"

جمال کے مطابق اس لڑکی کی بہن کی شادی داعش کے ایک جنگجو سے ہوئی تھی جس نے ان کے سفر کا بندوبست کیا۔

"پہلے ہم استنبول سے بس کے ذریعے غازی عینتاب نامی شہر پہنچے، وہاں سے ایک ڈرائیور نے ہمیں اپنے ہمراہ لیا اور سرحد پر لے گیا جہاں سے ہم شام سے عراق گئے۔"

امریکی انٹیلی جنس حکام کو امید ہے کہ وہ جمال کے سفر کی روداد سے متعلق مزید معلومات حاصل کر سکیں گے تاکہ وہ اس شخص کے بیانات بشمول موصل میں غیر ملکی جنگجوؤں سے متعلق معلومات کی تصدیق کر سکیں۔

حکام فی الوقت بہت احتیاط سے سارے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس سے اٹھنے والے سوالات پر غور کر رہے ہیں۔

جمال نے انٹرویو میں کہ جب وہ داعش کے علاقے میں پہنچا تو اس نے اپنی شناختی دستاویزات پھاڑ دی تھیں۔

"تمام غیر ملکیوں کو اپنے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ وہاں موجود ایک شخص کو جمع کروانا ہوتی تھیں۔ وہاں سے ہمیں رقہ لے جایا گیا۔"

لیکن پیر کو کرد فورسز نے جب جمال کو حراست میں لیا تو اس کے پاس ورجینیا کا ڈرائیونگ لائسنس، امریکی ڈالر اور ترکی کی کرنسی، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز اور تین موبائل فون تھے۔

ایسے ہی بے شمار سوالات نے جنم لیا ہے جو حکام کے بقول جمال کے بیانیے سے متعلق شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG