رسائی کے لنکس

عراق: کار بم دھماکے میں کم از کم 130 افراد ہلاک


فائل

فائل

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں حملے کی مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جان بوجھ کر اور شیطانی طور پر، عید کے موقعے پر عراق کی شہری آباد کو ہدف بنایا گیا‘

عراقی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی صوبے، دیالہ میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 130 ہوگئی ہے، جِن میں خواتین اور بچے شامل ہیں؛ اور جب سے داعش نے عراق کے ایک وسیع رقبے پر دھاوا بولا ہے، اِن دھماکوں کو مہلک ترین قرار دیا جا رہا ہے۔

زیادہ تر شیعہ آبادی والے، خان بنی سعاد نامی قصبے کے ایک بازار میں جمعے کے روز ہونے والے دھماکے میں کم از کم 170 افراد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے یہ بات نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتائی، کیونکہ اُنھیں ابلاغ عامہ کے ذرائع سے گفتگو کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

دھماکے سے قبل، ماہ رمضان کے اختتام پر متعدد لوگ عید کی تیاری کے لیے بازار میں خرید و فروخت میں مصروف تھے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے ہفتے کو جاری کردہ ایک بیان میں صوبہ دیالہ میں ہونے والے اس حملے کی مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جان بوجھ کر اور شیطانی طور پر، عید کے موقعے پر، عراق کی شہری آباد کو ہدف بنایا گیا‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’خان بنی سعاد کے شہر میں ہونے والے اس بم حملے سے یہ افسوس ناک امر مزید واضح ہوگیا ہے کہ داعش کے دہشت گرد عراق کے عوام کے خلاف ظلم کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں‘۔

بتایا جاتا ہے کہ دھماکے کے باعث متعدد عمارتیں تباہ ہوئیں، کچھ افراد ملبے تلے دب گئے، جب کہ کئی گلیوں میں مٹی کا ڈھیر لگ گیا ہے۔ اہل کار ابھی تک ملبے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
عراقی پارلیمان کے اسپیکر، سالیم الجبوری کے بقول، حملے کے تانے بانے فرقہ واریت سے جا ملتے ہیں۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ دیالہ کی سکیورٹی کو غیر مستحکم کرنے کے داعش کے تمام حربوں کو ناکام بنایا جائے۔

اقوام متحدہ کے نمائندہٴخصوصی برائے عراق، جان کوبیس نے ہفتے کے روز بتایا کہ یہ ’وحشتناک خونریزی مہذب اقدار کی تمام حدیں پھلانگ چکی ہے‘۔

دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

اُنھوں نے اپنے سماجی ویب سائٹس پر کہا ہے کہ حملے کا نشانہ اہل تشیع تھے۔

XS
SM
MD
LG