رسائی کے لنکس

وسطی افریقہ امداد، یورپی یونین اعلیٰ سطحی اجلاس بلائے گا


فائل

فائل

رائٹرز نے بانگئی سے اقوام متحدہ کے اہل کاروں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پیر کی صبح سویرے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں، جو بعدازاں تھم گئیں

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ 20 جنوری کو جمہوریہٴوسطی افریقہ کے ’ناگفتہ بہ المیئے‘ کے بارے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کرائے گا، جس میں اقوام متحدہ اور امداد دینے والے ممالک شریک ہوں گے۔

یورپی یونین کے امدادی کاموں کے شعبے کی سربراہ، کرسٹالینا جورجیوا نے پیر کے روز بتایا کہ ایک متفقہ باہمی بین الاقوامی اقدام درکار ہے۔

رائٹرز نے بانگئی سے اقوام متحدہ کے اہل کاروں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پیر کی صبح سویرے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں، جو بعدازاں تھم گئیں۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کی خاتون ترجمان، ژان ویس کلیمنزو نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ جمہوریہ وسطی افریقہ کے دارالحکومت میں صورتِ حال کی شدت میں کمی آ گئی ہے۔

کلیمنز کے بقول، ’اب یہ قدرے بہتر ہے۔ لیکن، اب بھی شہر میں، بہت سے مسائل درپیش ہیں، جیسا کہ تصور کیا جا سکتا ہے‘۔

کلیمنز نے کہا کہ بانگئی شہر میں ایک ہی اسپتال ہے جو 10 لاکھ کی آبادی کے لیے ناکافی ہے، اور یہ کہ بین الاقوامی ریڈ کراس کو خاص طور پر ایسے افراد کی حالتِ زار پر تشویش ہے جو لڑائی کے باعث بے گھر ہوچکے ہیں۔

اُن کے بقول، بانگئی کے شہر کے مختلف مقامات پر مقیم 10000 افراد کی حالت تشویش کا تقاضا کرتی ہے۔ ہم اُن کی امداد کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نے دو بستیاں تیار کرلی ہیں، جہاں بیت الخلاٴ کا بھی بندوبست ہے۔ ہم پینے کا کچھ پانی بھی وہاں دستیاب کر رہے ہیں۔ لیکن، اس کی مقدار نا کافی ہے۔

کلیمنز نے کہا کہ اِن اقدامات کا مقصد متعدی بیماریوں کے پھیلنے کو روکنا ہے۔

اِس ماہ، بانگئی میں مسلمان ’سیلیکا‘ باغیوں اور عیسائی نیم سرکاری ملیشیاؤں کے درمیان ہونے والی لڑائی میں 1000سے زائد افراد ہلاک جب کہ اندازاً چار لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔

پیر ہی کے روز، بچوں کی دیکھ بھال سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ اس ماہ ہونے والی تشدد کی کارروائیوں میں کم از کم دو بچوں کے سر تن سے جدا کیے گئے۔

’یونیسیف‘ کے ایک اہل کار، سلیمان دابے نے بتایا ہے کہ مسلح گروپوں میں زیادہ تعداد میں بچوں کو بھرتی کیا جارہا ہے، جنھیں بدلہ لینے والی اذیت ناک کارروائیوں میں براہِ راست ہدف بھی بنایا جا رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG