رسائی کے لنکس

نگراں سیٹ اپ: پی پی ن لیگ متفق ، ایم کیو ایم کو تحفظات


نگراں سیٹ اپ: پی پی ن لیگ متفق ، ایم کیو ایم کو تحفظات

نگراں سیٹ اپ: پی پی ن لیگ متفق ، ایم کیو ایم کو تحفظات

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف نگراں حکومت کے قیام سے متعلق کسی نکتے پر متفق نہ ہو سکے تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے تین ، تین ارکان پر مشتمل چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی

بیسویں آئینی ترمیم میں نگراں حکومت کے قیام سے متعلق حکمراں جماعت پیپلزپارٹی اور حزب مخالف کی بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں اور نگراں حکومت کے عہدیداروں کیلئے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نام تجویز کریں گے ۔

وفاقی وزیر مذہبی امور سیدخورشید شاہ نےاسلام آباد میں میڈیا کوبتایا کہ بیسویں ترمیم کے مسودے کے حوالے سے دو تین دن میں معاملات طے پا جائیں گے، جس کی منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف نگراں حکومت کے قیام سے متعلق کسی نکتے پر متفق نہ ہو سکے تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے تین، تین ارکان پر مشتمل چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔

دوسری جانب، حکمران اتحاد میں شامل ایم کیو ایم نے چھ رکنی کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کمیٹی میں ہر اس جماعت کونمائندگی دی جائے جس کے قومی اسمبلی میں اراکین کی تعداد دس یا دس سے زائد ہے۔ اس کمیٹی کو صرف پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے تین ، تین اراکین تک محدود نہیں ہونا چاہیئے۔ ادھر، مسلم لیگ ق نےتعلیمی نصاب سے متعلق شق بھی بیسویں آئینی ترمیم میں شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

بنیادی طور پر اس ترمیم کا مقصد سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کےان اٹھائیس اراکین کے ضمنی انتخابات کو سپریم کورٹ کے حکم پر قانونی تحفظ فراہم کرنا تھا جوجعلی ووٹر لسٹوں پر ضمنی انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔ پارلیمنٹ سے بیسویں آئینی ترمیم منظور ہونے کی صورت میں ان اراکین کی رکنیت خود بخود بحال ہوجائے گی۔

یاد رہے کہ حکومت نےاٹھارہ جنوری کو یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا اوراسپیکر نے یہ بل کمیٹی کو بھجوایا تھا۔ کمیٹی نے یہ بل منظور کرنے کی سفارش کی لیکن حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث تاحال یہ بل اسمبلی میں پیش نہیں ہو سکا۔ قومی اسمبلی میں حزب مخالف جماعت مسلم لیگ ن کاموقف تھا کہ بیسیویں آئینی ترمیم میں الیکشن کمیشن کو با اختیار بنانے کے لئے مزید شقیں شامل کی جائیں ۔

سپریم کورٹ کی چاررکنی بینچ نے عمران خان کی درخواست پر حکومت کو چھ فروری تک مہلت دی تھی کہ اس حوالے سے پارلیمنٹ سے توثیق کرا لی جائے۔ تاہم، چھ فروری تک جب ایسا نہ ہو سکا تو سپریم کورٹ نے 19 اپریل 2010 کے بعد ضمنی انتخابات میں منتخب ہونے والے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے 28 اراکین کی رکنیت معطل کردی ۔

معطل ہونے والوں میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے تین وزراء، وزیر خزانہ حفیظ شیخ، تیل وقدرتی وسائل کے وزیر ڈاکٹر عاصم حسین اور نارکوٹکس کے وزیر خدا بخش راجڑ شامل ہیں۔




XS
SM
MD
LG