رسائی کے لنکس

عراق و شام میں داعش کے خلاف امریکی کمانڈو صف آرا: کارٹر


امریکی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ امریکی قیادت میں لڑنے والے اتحاد کی افواج کے پاس 'لمبے تیر' ہیں، 'جن کی مدد سے ہم نے عراق میں موصل اور شمالی شام میں رقہ کو، جو داعش کی خودساختہ مذہبی خلافت کا دارالحکومت ہے، واگزار کرایا’

امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے کہا ہے کہ اِس وقت عراق اور شام میں موجود 200 امریکی کمانڈو داعش کے اہداف پر چھاپوں کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ بقول اُن کے، 'جہاں کہیں بھی دکھائی دیں، وہ اُنھیں مارتے یا پکڑ لیتے ہیں'۔

اُنھوں نے یہ بات جمعرات کو پیرس میں فرانسیسی اہل کاروں کے تربیتی اسکول میں خطاب کرتے ہوئے کی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ 'اِن فوجوں نے پہلے ہی اُن نئے شراکت داروں کے ساتھ رابطے قائم کیے ہیں جو ہمارے اہداف کے حامی ہیں؛ اور نئے فضائی حملوں اور دیگر تمام کارروائیوں کے سلسلے میں مقامی، متحرک اور باصلاحیت لڑاکوں کے ساتھ رابطوں کے نئے وسائل تلاش کر لیے ہیں'۔

کارٹر نے کہا کہ عراق میں،'اب ہمارے پاس خصوصی مشن کے لیے حملہ آور طاقت موجود ہے، جو عراقیوں کے ساتھ مل کر فوری، دور تک مار کرنے والی کارروائی اور داعش کے لڑاکوں اور کمانڈروں پر حملوں کی تیاری کر رہی ہے۔ ساتھ ہی، اُنھیں ہلاک کرنے یا پکڑنے کی کارروائیاں کی جارہی ہیں، وہ جہاں کہیں بھی ہوں، بشمول دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں، سبھی کی جا رہی ہیں'۔

پینٹاگان کے سربراہ نے بدھ کو فرانس، جرمنی، برطانیہ، آسٹریلیا، اٹلی اور نیدرلینڈ کے اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کی، تاکہ شدت پسندوں سے لڑنے کی حکمتِ عملی پر نظر ڈالی جا سکے۔

اُنھوں نے مستقبل کے فرانسیسی اہل کاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ، 'ہمارے سامنے ایک مشترک کارروائی کی حکمت عملی ہونی چاہیئے، جسے اتحاد میں شامل تمام ممالک سمجھ سکیں، اور جس سے ہمارے دشمن بچ نہ سکیں'۔

کارٹر نے کہا کہ امریکی قیادت میں لڑنے والے اتحاد کی افواج کے پاس 'لمبے تیر' ہیں، جن کی مدد سے ہم نے عراق میں موصل اور شمالی شام میں رقہ کو، جو داعش کے خودساختہ مذہبی خلافت کا اعلان کردہ دارالحکومت ہے، واگزار کرایا۔’

XS
SM
MD
LG