رسائی کے لنکس

مذہب کے خلاف طنز، ماضی میں بھی اشتعال پیدا ہوا: رپورٹ


پیرس، حملے کے خلاف احتجاج

پیرس، حملے کے خلاف احتجاج

تین برس قبل، شاربونئر نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اُس وقت کسی نے ذرہ برابر پرواہ نہیں کی جب کیتھولک روایات پر طنز کیا گیا، لیکن جب مسلمانوں کو ہدف طنز بنایا گیا، تو اُس کے دفاتر پر حملے ہوئے

فرانس کے ایک طنزیہ ہفت روزہ، ’چارلی ہیبڈو‘ پر بدھ کو پیرس میں ہونے والا مہلک حملہ اُن مغربی جریدوں کے خلاف تازہ ترین حملہ ہے، جنھوں نے پیغمبر اسلام سے متعلق کارٹون شائع کیا، جسے اشتعال انگیزی خیال کیا گیا۔

یہ تنازع گذشتہ ایک عشرے سے بھڑکتا رہا ہے، جب سے ڈینمارک کے اخبار، ’یولاں پوسٹن‘ نے پہلی بار 12 ادارتی کارٹوں چھاپے تھے، جن میں پیغمبر اسلام کی شبیہ بنائی گئی تھی، اور جنھیں دنیا کے دیگر رسائل نے دوبارہ چھاپہ تھا۔

مہینوں بعد، جوں ہی مسلمان ملکوں میں کارٹون سے متعلق معلوم ہوا، تشدد آمیز احتجاجی مظاہرے ہوئے جن کے نتیجے میں 200 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔

پیرس کے ہفت روزہ کے ایڈیٹر، اسٹیفن شاربونئر جو اس تازہ ترین تشدد کی کارروائی میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئے، وہ اُن اشاعتی اداروں میں پیش پیش تھے جو آزادی اظہار کی اِن سرحدوں کو آزماتے رہے ہیں، جو مغربی ممالک کا خاصہ ہے۔

تاہم، متعدد مسلمانوں نے پیغمبر اسلام کا کارٹون بنانے اور طنزیہ کلمات میں مذہب کو ہدف بنانے پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔

’چارلی ہیبڈو‘ نے ڈینمارک کے کارٹونوں کو دوبارہ شائع کیا اور بعدازاں اپنی ایک اشاعت کو ’شریعہ ہیبڈو‘ کا عنوان دیا اور پیغمبر اسلام کو اس شمارے کا ایڈیٹر بتایا۔ تاہم، یہی اشاعتی ادارہ بچوں کے ساتھ جسمانی زیادتی کے اسکینڈل پر رومن کیتھولک چرچ اور کئی ایک سیاستدانوں کو ہدف طنز بناتا رہا ہے۔

مسلمان گروپوں نے ’شریعہ ہیبڈو‘ کے عنوان والے شمارے کے حوالے سے جریدے پر نسل پرستی کا الزام لگایا اور سنہ 2011 میں اخبار کے دفاتر پر بم دھماکے کیے گئے۔ اخبار نے نسل پرستی کے الزامات کا کامیابی کے ساتھ دفاع کرتے ہوئے، کہا ہے کہ فرانسسی قانون کے تحت، اشاعتی ادارہ آزادی رائے پر عمل پیرا رہا ہے، جس میں مذہب اور ریاست کی علیحدگی اور مذہب پر نکتہ چینی کرنے کے حق کی ضمانت دی گئی ہے۔

تین برس قبل، شاربونئر نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اُس وقت کسی نے ذرہ برابر پرواہ نہیں کی جب کیتھولک روایات پر طنز کیا گیا، لیکن جب مسلمانوں کو ہدف طنز بنایا گیا، تو اُس کے دفاتر پر حملے ہوئے۔ بقول اُن کے، ’یہ نیا ضابطہ ہے، لیکن ہم اسےنہیں مانیں گے‘۔


اُس دِن جب شاربونئر ہلاک ہوئے، چارلی ہینڈو نے سماجی میڈیا پر ایک طنزیہ کارٹون چھاپا جس میں داعش کے سرغنہ، ابو بکرالبغدادی کو نئے سال پر نیک خواہشات کا اظہار کرتے دکھایا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG