رسائی کے لنکس

امریکہ میں لوہے کے برتنوں کی مقبولیت میں اضافہ


امریکہ میں لوہے کے برتنوں کی مقبولیت میں اضافہ

امریکہ میں لوہے کے برتنوں کی مقبولیت میں اضافہ

ساؤتھ پٹس برگ امریکی ریاست ٹینیسی میں دریائے ٹینی سی اور میرین کاؤنٹی کے پہاڑوں کے درمیان واقع ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔جہاں کی آبادی تین ہزار سے کچھ ہی زیادہ ہے ۔ یہ علاقہ اپنے لوہے کے کارخانے لاج کاسٹ آئرن کی وجہ سے مشہور ہے جو امریکہ میں لوہے کے برتن تیار کرنے والا آخری کارخانہ بھی ہے۔

کارخانے کے ایک عہدے دار باب کیلرمن کہتے ہیں ہم روزانہ تقریبا لوہے کے 36 ہزار کلوتک کے برتن بناتے ہیں۔ ہمارے پاس لوہے کو برتنوں کی شکل میں ڈھالنے والے دو بڑے یونٹس ہیں ، ہر یونٹ ایک گھنٹے میں چار سو کے قریب لوہے کو برتن کی شکل میں ڈھال سکتا ہے۔ ہم دس دس گھنٹے کی دو دو شفٹس میں کام کرتے ہیں ۔

لوہے کے برتنوں کا یہ خاندانی کاروبار گذشتہ ایک صدی میں چار نسلوں نے ایک دوسرے کو منتقل کیا ہے۔ ماضی میں امریکہ میں اس نوعیت کے بہت سے کارخانے موجود تھے، لیکن گزرتے وقت کے ساتھ بند ہوتے گئے۔ کیلرمن کے مطابق ان کی کمپنی کی کامیابی کا راز وقت کے ساتھ جدید اور نئی ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔

لاج کمپنی نے گذشتہ برسوں میں بہت سے نئے اور جدید رجحانات بھی متعارف کرائے۔ برتنوں کے پیندے میں پہلے سے تیل کی بھرائی ایک ایسی ہی جدت ہے جسے بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔کمپنی نے لوہے کے بہترین برتن بنانے کا اپنا الگ اور منفرد طریقہ ایجاد کیا ہے۔

لیکن جدید ٹیکنالوجی اور تکنیکی مہارت لوہے کے برتنوں کا رواج واپس آنے کی پوری کہانی نہیں سناتیں ۔ ۔ ایک قریبی علاقے نیش ول کے ایک ہوٹل کے سینئیر شیف ٹیلر براؤن، امریکہ کی جنوبی ریاستوں کے زیادہ چکنائی والے روایتی کھانوں کی تیاری کے لئے لوہے کے برتن استعمال کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کھانوں کی دوبارہ مقبولیت لوہے کے برتنوں کا رواج عام ہونے کی وجہ ہے ۔

لاج کمپنی ایسے مواقعوں کے لیے ہی ہر قسم کے برتن تیار کرتی ہے۔ باب کیلرمن کہتے ہیں کہ اگر آج ان کےپر داد ا زندہ ہوتے تو اپنی ایک چھوٹی سی فیکٹری کو ایک بڑے کاروبار میں بدلتا دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔

لوہے کے برتن بنانے کی یہ کمپنی اپنی کامیابی جاری رکھنے کے لیے عالمی سطح پر بھی اپنے آپ کو متعارف کرانے کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اور اب اس کے تیار کردہ برتن جاپان، روس اور فلپائن میں بھی دستیاب ہیں ۔

XS
SM
MD
LG