رسائی کے لنکس

بلی کو اکثر شیر کی خالہ بھی کہا جاتا ہے اور اب سائنس دان بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خوبصورت بلیوں کی شخصیت اپنے رشتہ دار جنگلی بلے شیروں سے بہت ملتی جلتی ہوتی ہے۔

کیا آپ نے سوچا ہے بلی کی معصوم اور بھولی بھالی صورت کے پیچھے ایک شیطانی چہرہ بھی چھپا ہو سکتا ہے جو آپ کو گھورتے ہوئے دل ہی دل میں آپ کے قتل کا منصوبہ بنا سکتی ہے یہ خلاصہ ہے ایک نئی تحقیق کا ہے جس میں محققین نے دریافت کیا ہے کہ بلی کی جسامت اگر شیر جیسی ہوتی تو وہ اپنے مالکان پر ضرور حملہ کر سکتی تھی۔

بلی کو اکثر شیر کی خالہ بھی کہا جاتا ہے اور اب سائنس دان بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خوبصورت بلیوں کی شخصیت اپنے رشتہ دار جنگلی بلے شیروں سے بہت ملتی جلتی ہوتی ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق بلی ایک شکاری طبیعت رکھنے والا جانور ہے جو اچانک اپنے مالکان پر حملہ کر سکتی ہے اگر وہ اپنے رشتہ دار جنگلی بلے کی طرح جسامت میں بڑی ہے۔

اسکاٹ لینڈ کی ایڈنبرا یونیورسٹی اور نیویارک کے برونکس چڑیا گھر کی ایک مشترکہ تحقیق میں تحقیق کاروں کو گھریلو پالتو بلیوں میں افریقی شیروں کی شخصیت کی بہت سی خصوصیات کے اشتراک کا پتا چلا ہے۔

سائنس دانوں کا مطالعہ گھریلو بلیوں کی جبلت اور جنگلی بلوں یعنی افریقی شیر، اسکاٹش شیر اور برفانی چیتوں کی خصوصیات کے تقابلی جائزے پر مشتمل تھا جس کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ پالتو بلی کی شخصیت کی ساخت نمایاں طور پر شیروں اور چیتوں جیسی تھی۔

مطالعے میں شامل مختلف اقسام کی بلیوں میں تین خاصیتیں زیادہ تھیں ان بلیوں میں خاص طور پر افریقی شیروں اور چیتوں کی نسل مثلاً برفانی چیتے کی طرح غلبے کی کوشش، اضطراری طبیعت اور دماغی خلل جیسی خصوصیات نمایاں تھیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اپنے اعلیٰ درجے کے دماغی خلل کی وجہ سے پالتو بلیاں بہت زیادہ پریشان، غیر محفوظ اور مشکوک فطرت رکھتی ہیں اور لوگوں سے خوفزدہ رہتی ہیں۔

مطالعے کے انعقاد کے لیے تحقیق کاروں کی ٹیم نے اسکاٹ لینڈ کی دو بلیوں کی پناہ گاہوں سے 100 پالتو بلیاں شامل کیں جن کی عمریں ایک ماہ سے 19 سال کے درمیان تھیں جبکہ مطالعہ میں چڑیا گھر سے بڑے جانور بھی شامل تھے۔

یہ تحقیق جرنل آف 'کمپریٹیو سائیکولوجی' کے نومبر کے شمارے میں شائع ہوئی ہے جس میں تحقیق کے مصنف میرک گارٹنر نے کہا ہے کہ اگرچہ گھریلو بلیوں کی جبلت جنگلی بلیوں جیسی ہے لیکن یہ تصور کہ وہ آپ کو قتل کر سکتی ہے کافی دور کی بات ہے۔

ڈاکٹر میرک کہتے ہیں کہ بلیوں کی شخصیت مختلف ہوتی ہے اور وہ ہمارے ساتھ ہمارے گھر میں رہتی ہیں کیونکہ اس میں دونوں کا باہمی فائدہ ہوتا ہے۔

تاہم انھوں نے نتائج کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کچھ بلیاں طبیعتاً آزاد اور بعض بہت پیار کرنے والی ہوتی ہیں اور یہ بلیوں کی انفرادی خصوصیات ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ بلیاں خود غرض طبیعت کی مالک ہوتی ہیں بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ تنہائی یا نیم تنہائی پسند جانور ہے۔

ڈاکٹر میرک گارٹنر کے مطابق بلیاں آپ سے ٹکرانا نہیں چاہتی ہیں لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں کہ بلیوں کے ساتھ کیسا برتاؤ رکھا جائے اور پھر بعد میں وہ بلی کے رویے پر حیران ہوتے ہیں۔

محقق ڈاکٹر میکس کے مطابق بلیاں خوبصورت اور پیاری ہوتی ہیں لیکن گھر میں پالتو جانور بلی رکھنے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ انھوں نے اپنے گھر میں ایک چھوٹے شکاری کو جگہ دی ہے۔

XS
SM
MD
LG