رسائی کے لنکس

بہتر زندگی کے حصول کا نیا آغاز

  • فائزہ المصری

بہتر زندگی کے حصول کا نیا آغاز

بہتر زندگی کے حصول کا نیا آغاز

ہم میں سے ہر شخص کو ہی اپنے کسی عزیز اپنے کسی پیارے کے بچھڑنے کے صدمے سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایسا ہی مصنف وِل جورڈن کے ساتھ ہوا جب اُن کی رفیقہٴ حیات ایک طویل بیماری کے بعد انتقال کر گئیں۔ تاہم جورڈن نے اس اندوہ ناک صدمے سے گزرنے کے بعد ڈیپریشن کا شکار ہونے کی بجائے اپنے المیے کو تخلیقی تجربے کا روپ دے کر ایک ناول لکھا، جسے بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔

اِس ناول کا عنوان ہے ‘دِی انکارنیشن آف کیٹ مین بِلی،’ یا ’انسان کا بلی کے روپ میں جنم‘۔یہ بلی (Billy) نامی ایک ایسے شخص کی مہم جوئی کی داستان ہےجِس نے موت کے بعد اگلا جنم ایک بلی کے روپ میں لیا۔ بلی کو پتا چلا کہ وہ اپنی نئی زندگی کو ایک نئے زاویےسے دیکھنا چاہتا ہے، اور اِس کوشش میں بہت سی سچائیاں اُس کے سامنے آتی ہیں۔

مصنف وِل جورڈن کہتے ہیں کہ میری بیوی کی بیماری اور موت نے میری زندگی کو بدل کر رکھ دیا اور پھر میں نے سوچا کہ ایسا کوئی کام کرنا چاہیئے جو دل چسپ ہو، اِس طرح اُن کے ناول کی داغ بیل پڑی۔ یہ دوستوں کے ایک گروپ کے ایڈونچر ہیں جو حقیقی زندگی میں شاید ہی دوست بن سکیں، یعنی بلیوں کا پورا گینگ، کتوں کا جوڑا، ایک ہرنی، ایک خرگوش اور اُن کا سردار سیاہ اور سدیے بلونگڑہ جِس کا نام بِلی تھا۔

مصنف کہہ رہا ہے کہ بلی کے جنم میں واپس آنے والے بِلی نے یہ سیکھا کہ کس طرح ایک بہترانسان بنا جائے۔

ایک انسان کے بلی کے روپ میں واپس آنے کا معاملہ بہت ساری ثقافتوں کے خلاف تھا۔ لیکن میرے خیال میں یہ ایسے بہت سے مسائل کو دیکھنے کا دل چسپ طریقہ ہے جِن سے کسی بھی کلچر سے تعلق رکھنے والے شخص کو گزرنا پڑتا ہے۔ مثلاً بے انصافی یا عدم رواداری۔ خود بِلی نے یہ سبق بلیوں کے گروہ کے سردار سے سیکھا تھا۔

سردار کہتا ہے کہ’ ننھی بلی غور سے میری بات سنو،بلیاں لگی لپٹی نہیں رکھتیں۔ اگر اُنھیں کوئی پسند آتا ہے تو وہ خوشی سے خرخراتی ہیں۔ اگر وہ خطرناک ہوں تو یا تو وہ حملہ کرتی ہیں یا بھاگ کھڑی ہوتی ہیں۔ اگر یہ آپ سے تعلق نہیں رکھتیں تو یا تو آپ وہاں سے گزر جاتی ہیں یا اسے نظر انداز کر دیتی ہیں۔ لیکن اگر آپ انسان ہوں تو آپ فرض تصور کر لیتے ہیں کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز پر تبصرہ ضرور کریں خواہ آپ کا اِس سے تعلق ہو یا نہیں۔ آپ اپنی برتری آس پاس موجود ہر فرد کے بارے میں فیصلے صادر کرکے یا طنزیہ تبصرے کرکے کرتے ہیں۔‘

آخر میں سردار کہتا ہے کہ انسان کس قدر مزاحیہ ہے۔جورڈن کہتے ہیں ہیں کہ بِلی یہ سبق بھی سیکھتا اور سکھلاتا ہے کہ منفی پہلوؤں پر نظر رکھنے کے بجائے مثبت رُخ کو دیکھنا بھی زندگی کو تبدیل کرنے اور آپ کے رشتوں کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے:

’ہم ایک دنیا کی حیثیت سے متحد ہو سکتے ہیں، اگر ہم بجائے چھوٹے چھوٹے اختلافات پر نظر رکھنے کے اُن چیزوں کو دیکھیں جو مشترک ہیں۔ کیوں نہ ہم بجائے آدھا گلاس خالی ہونے کے اِسے آدھا بھرا ہوا گلاس دیکھیں۔

اوریہ کام نہ صرف فرد کی سطح پر بلکہ ایک قومی اور ثقافتی سطح پر بھی کیا جاسکتا ہے، اگر آپ اپنے شوہر یا بیوی کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں تو آپ کو دیکھنا ہوگا کہ کس طرح آپ مل کر آگے بڑھ سکتے ہیں، کس طرح ایک دوسرے کو بتاتے رہیں کہ آپ نے کون سی بات غلط کی ہے اور آپ میں کیا خرابی ہے۔‘

جورڈن کہتے ہیں کہ منفی کی بجائے مثبت پہلوؤں پر نظر رکھنا سے ہی زندگی میں تبدیلی آ سکتی ہے اور باہمی تعلقات استوار ہو سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اب ہم ایک نیا سال اور نیا عشرہ شروع کرنے جا رہے ہیں، اس لیے یہ مناسب موقع ہے کہ اپنی زندگیوں پر نظرِ ثانی کریں۔ اس طرح ہم کیٹ مین بلی کی طرح ذاتی تنہائی سے باہر آ کر دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر نئی زندگی کا آغاز کر سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG